پانچ چار سالوں کے دوران کس سال میں کتنا دفاعی اور تعلیم بجٹ مختص کیے گیا اس حوالے سے سرمد سلطان نامی صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اعداد و شمار جاری کیے، جس میں بتایا گیا ہے کہ 2015 سے حالیہ بجٹ تک دفاع کے لیے 375 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا جبکہ تعلیمی بجٹ 20 ارب روپے کم ہوا۔
دفاعی بجٹ۔۔
سال 2016-2015 ۔۔۔۔ 775ارب روپے
سال 2017-2016 ۔۔۔ 860ارب روپے
سال 2018-2017 ۔۔۔ 920ارب روپے
سال 2019-2018 ۔۔۔۔ 1100ارب روپے
سال 2020-2019 ۔۔۔۔ 1150ارب روپے
دوسری جانب تعلیمی بجٹ
سال 2015-2016۔۔۔۔ 75ارب روپے
سال 2016-2017 ۔۔۔۔ 85ارب روپے
سال 2017-2018 ۔۔۔۔ 85ارب روپے
سال 2018-2019 ۔۔۔۔ 111ارب روپے
سال 2019-2020 ۔۔۔۔ 57ارب روپے
https://twitter.com/sarmads00529534/status/1138479938019962887
دوسری جانب ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ پچھلے سال وفاقی ترقی 1130 ارب اعلان کیا خرچ صرف 500 ارب دفاع 1180 ارب کا اعلان خرچ 1700 ارب سے زیادہ وجہ وزیرِاعظم عمران خان نے دو منی بجٹ پیش کیے،عوامی بجٹ پر دو ڈاکے مارے اس بار دفاعی بجٹ ترقیاتی بجٹ سے 325 ارب روپے زیادہ اس پر بھی دفاعی بجٹ میں کمی کا سفید جھوٹ بولا گیا۔
https://twitter.com/WaqasJosephine/status/1138487268468056064
یاد رہے کہ پاک فوج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں اضافہ لینے سے انکار کردیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خان سمیت تمام سیاسی قیادت نے فوجی قیادت کے اس اقدام کو سراہا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے بجٹ پیش کیا جس میں دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے جبکہ ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کی مد میں 421 ارب روپے مختص کیے گئے۔
آئندہ مالی بجٹ میں دفاعی بجٹ 1150ارب پر برقرار جبکہ سول اخراجات میں 23ارب کی کمی کی گئی، وزیر مملکت نے تعاون کرنے پر آرمی چیف کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ واضح کرنا چاہوں گاپاکستان کا دفاع اور قومی خودمختاری ہر شے پر مقدم،پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آنے دیں گے۔ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سول بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی، اس کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات 460ارب روپے سے کم کر کے 437ارب روپے کئے جا رہے ہیں جو 5فیصد اور 23ارب کی کمی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عسکری بجٹ موجودہ سال کی شرح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا، بچت کے اس مشکل فیصلے کے لیے وزیر اعظم کے تدبر اور عسکری قیادت خصوصاً آرمی چیف کی حمایت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا دفاع اور قومی خودمختاری ہر شے پر مقدم ہے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وطن اور لوگوں کے دفاع کے لیے پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔
سول وفوجی پنشنز کی مد میں 421 ارب روپے مختص
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت کےریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کیلئے 421ارب روپے کی رقم مختص کی جبکہ اس میں سے 327ارب روپے کی رقم ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو دی جائے گی جو کل رقم کا 77فیصد حصہ بنتی ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران ریٹائرڈ سول وفوجی ملازمین کی پنشن کیلئے مختص رقم کو 342ارب روپے سے بڑھا کر 421ارب روپے مقرر کردی گئی ہے ۔ وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ سویلین سرکاری ملازمین کے لئے آئندہ مالی سال میں 93.91ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ رقم 82.22ارب ڈالر رکھی گئی تھی ۔
غریب دشمن اور امیر دوست بجٹ، کھانے پینے کی اشیاء مہنگی، غریب کی زندگی مزید مشکل ہوگئی
حکومت نے گزشتہ مالی سال 2018-19 کے دوران ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کیلئے 342ارب روپے کی رقم مختص کی تھی جس میں سے 259ارب روپے یعنی کل رقم کا 75.95فیصد حصہ مسلح افواج کے ریٹائرڈ ملازمین کیلئے تھا جبکہ ریٹائرڈ سویلین ملازمین کے لئے 82.22ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جو کل رقم کا 24.05فیصد حصہ بنتا ہے ۔ گزشتہ 5برس کے دوران وفاقی حکومت نے پنشنز کی مد میں 1563.86ارب روپے کی رقم خرچ کی جو مسلح افواج اور سویلین دونوں ملازمین کو دی گئی ۔ حکومت نے اس مجموعی رقم میں سے 1188ارب روپے مسلح افواج کی پنشنز کی ادائیگیوں پر خرچ کئے جو کہ مجموعی رقم کا 75.96فیصد بنتا ہے ۔ جبکہ سویلین ملازمین کی پنشنز ادائیگیوں پر 374.99ارب روپے مختص کیے گئے۔
