فروغ نسیم کی وزارت ایم کیو ایم نے نہیں‌ مانگی، حکومت نے مرضی سے دی، انکشاف

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے وضاحت کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ہم نے دو وزارتیں مانگی تھیں جن میں فروغ نسیم کی وزارت شامل نہیں تھی۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شہازیب خانزادہ کے پوچھے گئے سوال ’’پہلے وعدے پورے نہ ہونے پر حکومت چھوڑدیتے تھےاب وعدے پورے نہ ہونے پر حکومت کے اور قریب چلے گئے ہیں ،ایک اور وزارت لے لی ہے،کیا ایم کیو ایم مکمل بدل گئی ہے‘‘؟

جواب میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے فروغ نسیم والی وزارت نہیں مانگی بلکہ دو وزارتیں مانگی تھیں جن میں ایک آئی ٹی اور دوسری سمندر پار پاکستانیوں کی تھی، جب فروغ نسیم کو وزارت دی جارہی تھی تو اُس وقت بھی ہم نے واضح کیا تھا کہ اس وزارت سے شہری مسائل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ بجٹ منظور کروانے کے لیے حکومت نے ایم کیو ایم سے ووٹ مانگنے کے لیے انہیں ایک اور وزارت دی جبکہ عمران خان نے فروغ نسیم سے ملاقات کر کے کراچی اور حیدرآباد کے میئرز کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا، اس ضمن میں گورنر سندھ اور فروغ نسیم پر مبنی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو معاملات اور مسائل طے کرے گی۔

بجٹ‌ منظوری، حکومت ایم کیو ایم کو ایک اور سرکاری عہدہ دینے کے لیے تیار