کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے وضاحت کی ہے کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ہم نے دو وزارتیں مانگی تھیں جن میں فروغ نسیم کی وزارت شامل نہیں تھی۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شہازیب خانزادہ کے پوچھے گئے سوال ’’پہلے وعدے پورے نہ ہونے پر حکومت چھوڑدیتے تھےاب وعدے پورے نہ ہونے پر حکومت کے اور قریب چلے گئے ہیں ،ایک اور وزارت لے لی ہے،کیا ایم کیو ایم مکمل بدل گئی ہے‘‘؟
جواب میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے فروغ نسیم والی وزارت نہیں مانگی بلکہ دو وزارتیں مانگی تھیں جن میں ایک آئی ٹی اور دوسری سمندر پار پاکستانیوں کی تھی، جب فروغ نسیم کو وزارت دی جارہی تھی تو اُس وقت بھی ہم نے واضح کیا تھا کہ اس وزارت سے شہری مسائل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
پہلے وعدے پورے نہ ہونے پر حکومت چھوڑدیتے تھےاب وعدے پورے نہ ہونے پر حکومت کے اور قریب چلے گئے ہیں ،ایک اور وزارت لے لی ہے،کیا ایم کیو ایم مکمل بدل گئی ہے؟ pic.twitter.com/kqM8I4BE7P
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) June 19, 2019
یاد رہے کہ بجٹ منظور کروانے کے لیے حکومت نے ایم کیو ایم سے ووٹ مانگنے کے لیے انہیں ایک اور وزارت دی جبکہ عمران خان نے فروغ نسیم سے ملاقات کر کے کراچی اور حیدرآباد کے میئرز کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا، اس ضمن میں گورنر سندھ اور فروغ نسیم پر مبنی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو معاملات اور مسائل طے کرے گی۔
بجٹ منظوری، حکومت ایم کیو ایم کو ایک اور سرکاری عہدہ دینے کے لیے تیار
