Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایم کیو ایم پہلے پیٹرول مہنگا ہونے پر حکومت سے علیحدہ ہوجاتی تھی، سعید غنی | زرائع نیوز

ایم کیو ایم پہلے پیٹرول مہنگا ہونے پر حکومت سے علیحدہ ہوجاتی تھی، سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کے پاس جاکر انہیں سمجھائیں کہ وہ اس بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں کیونکہ یہ بجٹ منظور ہوا تو مہنگائی کا سونامی جو گذشتہ 11 ماہ سے اس ملک میں معاشی دہشتگردوں کی وجہ سے آیا ہے اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

پیپلز پارٹی کے قائدین، کارکنان اور ارکان اسمبلی کسی قسم کے ہتھکنڈوں اور دباؤ سے ڈرنے والے نہیں اور ہم تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ کے بیان پر اگر کسی شخص کو سزا ہوسکتی ہے تو وہ ذوالفقار مرزا کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی کے عوام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت عوام دشمن بجٹ اور مہنگائی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور دیگر حکومتی اتحادی جماعتوں کے جو ارکان قومی اسمبلی جن جن حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں ان کے عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان کے گھروں پر جائیں اور انہیں سمجھائیں کہ وہ وفاقی بجٹ کو منظور نہ ہونے دیں کیونکہ یہ بجٹ دراصل آئی ایم ایف کا بجٹ ہے اور اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کا براہ راست اثر عوام پر ہوگا۔

سعید غنی نے کہا کہ وہ ان ارکان کو بتائیں کہ وہ عوام اور غریبوں کے نمائندے ہیں وہ آئی ایم ایف کے نمائندے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم جب ہماری وفاقی حکومت کا حصہ تھی اس وقت بین الاقوامی مارکیٹوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر ہماری وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی تھی تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوجاتی تھی لیکن آج جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں کمی کے باوجود ہر ماہ باقاعدگی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو ایم کیو ایم کیوں خاموش ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ایم کیو ایم کے ووٹروں سے بھی پوچھتا ہوں کہ وہ اپنے ان منتخب نمائندوں سے پوچھیں کہ وہ آج کیوں معاشی دہشت گردی اور مہنگائی کے لئے آواز نہیں اٹھا رہے اور یہ بھی ان کو سمجھائیں کہ وہ اس آئی ایم ایف بجٹ کی منظوری میں حصہ دار نہ بنیں کیونکہ یہ بجٹ مزید مہنگائی کا ضامن ہوگا۔

فریال تالپور کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جو خط انہوں نے الیکشن کمیشن کو لکھا گیا ہے اس میں آئین کی آرٹیکل کو جواز بنایا گیا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے عدالت کا کوئی فیصلہ آیا ہو لیکن فریال تالپور کی جائداد کی جائیداد کے حوالے سے کسی بھی عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الزام وہ لوگ لگا رہے ہیں جن کے لیڈران نے جائیداد تو کجا اپنی بیٹیاں بھی چھپائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی جائیدادیں تو سامنے آچکی ہیں اور انہوں نے نہ صرف اس کو تسلیم کیا بلکہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ بھی اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ایسا شخص کہے جس کے ہاتھ صاف ہو تو بات سمجھ میں نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جو آف شور کمپنی کے خلاف بولتا رہا ہے اس ملک کی سب سے پہلی آف شور کمپنی اس نے ہی بنائی، جعلی اکاؤنٹس جس پر آج کل ہمارے قائدین کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے کسی جاننے والے کے بھی نکل جائیں تو ہم قصوروار اور خود جہانگیر ترین کے اپنے ملازمین کے جعلی اکاؤنٹس جو ثابت ہوگئے ہیں لیکن وہ پارسا ہے اور پی ٹی آئی میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں لیکن اس کے دھڑے معیار کے خلاف ہیں ہم کہتے ہیں کہ جو آئین اور قانون فریال تالپور، شرجیل میمن اور دیگر کے خلاف لگا رہے ہو وہی قانون آپ علیمہ باجی اور جہانگیر ترین پر بھی لاگو کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کرپشن کے الزامات ہر حکومت پر لگتے رہے ہیں لیکن کسی جماعت پر کرپشن کا الزام نہیں لگا۔ واحد تحریک انصاف وہ جماعت ہے، جو کرپٹ ترین جماعت ہے،جس پر کرپشن کا الزام ہے اور خود عمران خان نے پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں کرپشن پر ایک کمیٹی بنائی جس کے سربراہ (ر) وجہہ الدین تھے اور انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ الیکشن میں پرویز خٹک، عارف علوی اور دیگر نے پیسوں کا استعمال کیا اور آج چار سال کے بعد بھی اس پارٹی نے اس کی رپورٹ الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی پارٹی کی رپورٹ تک جمع نہیں کروائی۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب جب اقتدار میں آتی ہے اسطرح کے ہتھکنڈے ہمارے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وہ سیاسی مخالفین جنہیں اس صوبے کے عوام نے ہمیشہ مسترد کیا ہے، پیپلز پارٹی پر جب دباؤ بڑھتا ہے تو انہیں خوابوں میں بھی وزارتیں نظر آنا شروع ہوجاتی ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ عزیر بلوچ کا جو بیان سامنے لایا گیا ہے وہ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ اس میں حیرت کی بات کہ اس میں ایک آدمی ایسا بھی ہے جو وزیر رہا اور آج بھی وہ یہ کہتا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے اور اس کو میں نے تمام سہولیات فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کہی پیپلز پارٹی نے عزیر بلوچ کو استعمال کیا بھی ہے تو اس کا رابطہ اور چینل ذوالفقار مرزا کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا لیکن حیرت انگیز طور پر اس رپورٹ کو جسے پیپلز پارٹی کے خلاف پیش کی جارہی ہے اس میں ذوالفقار مرزا کے حوالے سے کچھ نہیں آیا۔

اس رپورٹ میں کہیں عزیر کے بیان میں کبھی شرجیل میمن تو کبھی فریال تالپور اور کبھی آصف علی زرداری کا نام لیا جاتا ہے کہی ذوالفقار مرزا کا نام نہیں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ عزیر بلوچ کے بیان پر اگر کسی شخص کو سزا ہوسکتی ہے تو وہ ذوالفقار مرزا کے سوا اور کوئی نہیں ہے، اگر عزیر بلوچ کے کیس سے ذوالفقار مرزا کو الگ کردیا جائے تو وہ کیس ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوال کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ کے پاس تحریک انصاف، ایم کیو ایم، مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ گئے اور اس سے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے خلاف وہ ان کے ساتھ ہوجائے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ کو آج پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر دباؤ ڈالنے کی سازشیں ہوتی رہی ہیں اور ہو رہی ہیں لیکن ہم اس دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوابدہ اس صوبے کے عوام کو ہیں اور جب تک عوام کا ہم پر اعتماد ہے ہم کسی کے کوئی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ مہنگائی ہوئی ہے یا نہیں اگر مہنگائی ہوئی ہے تو لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نہیں ہوئے تو بے شک ان کے ساتھ کھڑے رہیں لیکن پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ ہی کھڑی رہے گی۔