Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
مصطفیٰ کمال کی گرفتاری کا امکان، وارنٹ جاری | زرائع نیوز

مصطفیٰ کمال کی گرفتاری کا امکان، وارنٹ جاری

کراچی: غیرقانون الاٹمنٹس میں نامزد پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کے نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے، پی ایس پی نے ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر اپنے تمام پارٹی پروگرام ملتوی کردیے۔

ذرائع کے مطابق نیب ریفرنس دائر ہونے کے بعد تفتیشی ٹیم نے مصطفیٰ کمال کی گرفتاری اور مزید تحقیقات کے لیے اجازت طلب کی جو انہیں مل گئی، اس حوالے سے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیا گیا اور آئندہ 72 گھنٹوں میں اُن کی گرفتاری کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب نے مصطفیٰ کمال کی گرفتاری کے وارنٹ کل جاری کیے البتہ انہیں ایک دو روز میں گرفتار کیے جانے کا امکان ہے، اس ضمن میں پی ایس پی نے علاقائی سطح پر ہونے والے تمام پروگرام ملتوی کردیے جبکہ پاکستان ہاؤس میں چیئرمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کارکنان کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

پی ایس پی کے کارکنان نے مصطفیٰ کمال کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور پیغام دیا کہ وہ کسی بھی صورت اُن کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، جبکہ دوسری جانب حیدر آباد میں 21 جولائی کو ہونے والے جلسے کے حوالے سے بھی جاری تیاریاں فی الحال روک دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال کے بعد تنظیم کے تمام معاملات انیس قائم خانی سنبھالیں گے اور تمام شعبے اُسی طریقے سے امور سرانجام دیں گے، کسی بھی بات کا فیصلہ کرنے کے لیے سینٹرل کمیٹی سے مشاورت بھی کی جائے گی۔

مصطفیٰ کمال سمیت 11 ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ساحل کی زمین اونے پونے داموں بحریہ ٹاؤن کو فروخت کر کے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، قومی احتساب بیورو نے ملزمان کے خلاف ریفرنس بھی دائر کردیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال و دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سٹی ناظم کی حیثیت سے مصطفیٰ کمال نے ساحل کی زمین اونے پونے داموں فروخت کر کے بزنس ٹائیکون کو الاٹمنٹ فراہم کی۔

ریفرنس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور ای ڈی او سی ڈی جی کے افتخار قائمخانی، ڈی سی او فضل الرحمٰن، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے کے ڈی او ممتاز حیدر نذیر زرداری سمیت دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا۔ نیب نے ریفرنس میں موقف اپنایا کہ مصطفیٰ کمال اور دیگر کے خلاف ساحل سمندر پر ساڑھے 5 ہزار مربع گز زمین کی غیرقانونی طور پر الاٹ کی، نیب کے مطابق یہ زمین 1980 میں ہاکرز اور دکانداروں کو لیز پر دی گئی تھی جبکہ 2005 میں پوری زمین کو ڈی جے بلڈرز نے لیز پر حاصل کرلیا۔ احتساب عدالت میں دائر ریفرنس کے مطابق سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کرنے کی غیر قانونی اجازت بھی دی۔

دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے نیب ریفرنس کے خلاف ردعمل دیا گیا جس میں ترجمان کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال کا ماضی بے داغ ہے، بطور مئیر کراچی مصطفٰی کمال نے اپنی قابلیت، کارکردگی اور ایمانداری کے سبب کراچی کو دنیا کے 4 بہترین شہروں میں شامل کروایا، پاک سرزمین پارٹی مصطفٰی کمال پہ لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کرتی ہے اور ان بے بنیاد الزامات کو غلط ثابت کرے گی۔