مدارس پر چھاپوں کے خلاف وفاق المدارس کا حکومت کے خلاف بڑا اعلان

اسلام آباد: وفاقی المدارس پاکستان نے حکومت کی جانب سے مدارس پر مسلسل چھاپوں کا سلسلہ بند کرنے اور مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر لینے کا مطالبہ کردیا۔ اسلام آباد میں ناظم وفاق المدارس پاکستان قاضی عبد الرشیدنے مولانا نذیر فاروقی ،مولانا ظہور احمد علوی ،قاری سہیل احمد عباسی و دیگر علماء نے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مدارس میں خوف وہراس پیدا کرنے اور دینی اداروں کا ماحول خراب کرنے کی روش ترک کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن پر اعتراض نہیں تاہم اداروں کی بے حرمتی اور لوگوں کی تذلیل سے گریز کیاجائے، ضروری ہوتو متعلقہ افراد کو ساتھ لے جاکر تلاشی آپریشن کیا جائے تاکہ دینی مدارس میں احساس محرومی پیدا نہ ہو،مدارس کی نصاب سازی ایسے لوگوں پر نہیں چھوڑ سکتے جنہیں یہ بھی پتہ نہ ہو کہ قرآن میں کتنے سپارے ہیں ۔

قاضی عبد الرشید نے بتایاکہ جامعہ محمدیہ میں جامعہ عمر بہارہ کہو پر چھاپے کے خلاف اجلاس ہوا ،وفاق المدارس پچیس ہزار مدارس کا نیٹ ورک ہے ،دوہزار سے زائد امتحانی مراکز بنائے جاتے ہیں ،کبھی ان مدارس سے نقل کی شکایت تک نہ آئی ،مدارس ہر سال ایک لاکھ حافظ پیدا کرتے ہیں،سعودی عرب میں پانچ ہزار حافظ پیدا ہوتے ہیں ،پاکستان میں ساڑھے تیئس ہزار فضلا اس سال پیدا ہوئے ہیں ،شرح تعلیم میں مدارس بہت بڑا حصہ ڈال رہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ کچھ عرصے سے امن و سلامتی کے مراکز کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے ،مدارس ہمیشہ سے دہشتگردی کے خلاف ہیں ،فوج زمینی سرحدوں کی محافظ تو مدارس نظریاتی اداروں کے محافظ ہیں ،کبھی وقت آیا تو مدارس فوج سے آگے بڑھ کر لڑیں گے ،ہمیشہ پیشکش کی کہ جس مدرسہ سے متعلق کوئی شکایت ہے تو ہم رجوع کریں ،سرچ آپریشن بے شک کریں مگر تذلیل نہ کریں ۔

انہوں نے کہاکہ بہارہ کہو میں جامعہ عمر پر چھاپہ مارا گیا بلکہ حملہ آور ہوا گیا اور یہاں زیر تعلیم بچیوں کو پریشان کیا گیا ۔حکومت کو چاہیے کہ عصری تعلیمی اداروں کی طرح ہی مدارس کو ڈیل کرے۔

انہوں نے کہاکہ مدارس رجسٹریشن کے خلاف نہیں ہیں، یہ طے ہواہے کہ مدارس کے معاملات وزارت تعلیم دیکھے گی ،رجسٹریشن  کے لئے ون ونڈو آپریشن کیا جائے گا ،دینی نصاب مدارس خود بنائیں گے کیونکہ جن وزرا کو سورہ اخلاص نہ آتی ہو اور قرآن کے سپاروں کی تعداد بھی معلوم نہ ہو وہ دینی نصاب کیا بنائیں گے ؟۔انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹے مدارس کو خوفزدہ کرکے  سیکیورٹی اہلکار رشوت لیتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کووزارت تعلیم کے ماتحت نہیں منسلک کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔