اے آر وائی کے پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں مصطفیٰ کمال مہمانِ خصوصی تھے جس میں اُن سے میزبان وسیم بادامی نے انتہائی معصومانہ سوالات کیے اور پھنسایا۔
ایک سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کے ساتھ مکافات عمل ہوا، میں اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرسکتا۔ انہوں نے اینکر کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر سچ بولنے کی ہمت نہیں تو لیڈری کرنے سے بہتر ہے کہ آئسکریم فروخت کرلی جائے۔
مصطفیٰ کمال نے وسیم اختر کو بھی چیلنج دیا اور کہا کہ وہ قرآن لے کر آئیں میں حلف لوں گا کہ نہ کرپشن کی اور نہ ہی کوئی پیسہ لندن بھیجا۔
ایک موقع پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم کی قتل و غارت سے مجھے بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا، بانی ایم کیو ایم کی جماعت ایک دور میں لوگوں کو کہتی تھی کہ ہم کوٹا سسٹم ختم کروائیں گے مگر آج وہ پانی کے لیے بینر لگا رہی ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کسی اور دن اس معاملے پر گفتگو کریں گے کہ الیکشن کس نے ہراویا، میئر کراچی کو سُن قرار بھی دیا۔ جبکہ رضا ہارون سمیت دیگر قائدین کی پارٹی سے کنارہ کشی پر کوئی جواب نہیں دیا۔
