Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پاکستان اور جاپان میں5.3ملین ڈالرگرانٹ کا معاہدہ | زرائع نیوز

پاکستان اور جاپان میں5.3ملین ڈالرگرانٹ کا معاہدہ

اسلام آباد: سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی تعمیر نو کیلئے پاکستان اور جاپان کے درمیان 5.3 ملین ڈالر گرانٹ کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ بدھ کو یہاں وزارت اقتصادی امور میں امداد کے لیے دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔

یہ چوتھی گرانٹ امداد ہے جس کے ذریعے جاپان کی حکومت صوبہ سندھ میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے معاونت کرتی ہے۔رقم سندھ کے 6 اضلاع میں تباہ سکولوں کی تعمیرنو پرخرچ ہوگی۔

معاہدے پر سیکرٹری اقتصادی امور اورجاپان کے سفیر نے دستخط کئے۔

بتایا گیا ہے کہ ماضی کے منصوبوں میں جاپان کی مدد سے اسکولوں کی عمارتوں کو 2022 میں بارشوں اور سیلاب سے کم نقصان اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہیں 2010 کے سیلاب کے تجزیہ کی بنیاد پر ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا تھا۔ نئے پراجیکٹ میں “Build Back Better” کا تصور بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ہدف بنائے گئے اسکولوں کے مستقبل کی آفات کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔اس پروجیکٹ کا مقصد ایلیمنٹری اسکولوں کی تعمیر نو کے ذریعے محفوظ اور آفات سے بچنے والا تعلیمی ماحول قائم کرنا ہے جو 2022 میں سیلاب اور شدید بارشوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

یہ چوتھی گرانٹ امداد ہے جس کے ذریعے جاپان کی حکومت صوبہ سندھ میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے معاونت کرتی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان 5.3 ملین ڈالر گرانٹ کے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ بدھ کو یہاں وزارت اقتصادی امور میں امداد کے لیے دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔دوست ملک کی مدد سے اسکولوں کی عمارتوں کو 2022 میں بارشوں اور سیلاب سے کم نقصان اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہیں 2010 کے سیلاب کے تجزیہ کی بنیاد پر ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا تھا۔ نئے پراجیکٹ میں “Build Back Better” کا تصور بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ہدف بنائے گئے اسکولوں کے مستقبل کی آفات کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔