الطاف حسین نے پشتونوں‌ کو بیٹے اور بیٹیوں‌ کا درجہ دیا

پشتونوں کے نام وار جرنلسٹ کا خط
کراچی میں جب مہاجر پشتون دشمنی کا کھیل شروع کیا گیا تو ولی خان جو الطاف حسین کے کافی قریب تھے اس بات کا گلہ کیا تو الطاف نے جواب دیا کہ بابا میری جوان بیٹیوں اور بیوی کی رکھوالی پشتون کی ذمے ہے. ایک مہاجر یا میمن ایک پشتون کے آسرے پر پورا گھر چھوڑ کر ملک سے یا سندھ سے باہر بے خوف چلا جاتا ہے۔

میرے ہر کارخانے میں سخت کام پشتون کرتا ہے. میری گاڑی پشتون چلاتا ہے جس میں میری جوان بیٹی یا بہن پشتون کیساتھ اکیلی چلی جاتی ہے اور مجھے خوف نہیں ہوتا. پشتون میرے گھر کا ایک حصہ ہے تو بتائیں کہ میں پشتون سے نفرت کیسے کرسکتا ہوں۔

میں نے اپنی ذاتی زندگی میں پنجابیوں کو جتنا کھلا ڈلا پایا ہیں شاید ہی کوئی اور اتنا کھلے ذہن اور یار باش قوم ہو اس روئے زمین پر. لہذا قوم پرستی کا منجن میں نے ہمشہ اپنے پشتون رہنماؤں کو ہی بیچتے دیکھتے پایا ہے۔

میری اپنی قوم سے گذارش ہے کہ پلیز جذباتیت سے باہر نکلیں کھبی مذہب کے نام پر اپکو قربان کیا جاتا ہے کھبی قوم پرستی کے نام پر. کھبی جمعہ خان صوفی کو بھی پڑھا کرو ظالموں کہ یہ کاروبار کب, کس نے اور کیوں شروع کیا تھا. لگ پتہ جائیگا. کیونکہ دنیا کا سب سے آسان کام کسی قوم کو احساس برتری میں مبتلا کرکے احساس محرومی کے نام ایموشنل بلیک میل کرنا ہوتا ہے۔
پشتون کی بدقسمتی یہی ہے کہ وہ دنیا کے اس پٹی پر پیدا ہوا ہے جس کی سب سے زیادہ ضرورت اس وقت دنیا کی بڑی قوتوں کو ہے لہذا یہ وقت جذبات کا نہیں ہوش سے کام لینے کا ہے، مجھے قوم پرستی سے شدید نفرت ہے. گریٹر پشتونستان کا نظریہ میرے گھر سے ہی اٹھا ہے لہذا مجھے انگلی نہ کیا جائے۔

نسوار لگا کر شرافت سے پوسٹ پڑھ کر منہ کھولنے کے ساتھ ساتھ زرا دماغ کھول کر اس بات پر غور کریں کہ ہماری کونسی غلطیاں اور کمزوریاں ہیں جو اج ہم خوار و زار ہورہے ہیں. الزام لگانا اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہونے کا آسان حل ہے. آؤ ہم عہد کریں کہ ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے آؤ ہم اج کے بعد اپنی بیٹی کو اپنے بیٹے کے برابر حقوق دیں گے واللہ ہماری ادھی پریشانیاں اس وقت ختم ہوسکتیں ہیں
جاپانیوں سے ہی کچھ سیکھ لو ظالموں

تعارف

عارف خٹک وار جرنلسٹ ہیں اور وہ افغان جنگ کے دوران افغانستان میں اپنے صحافتی امور سرانجام دیتے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: