Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جامعہ کراچی، ٹیچر کی مبینہ جنسی ہراسانی سامنے لانے والے طالب علموں‌ کی گرفتاری کا حکم | زرائع نیوز

جامعہ کراچی، ٹیچر کی مبینہ جنسی ہراسانی سامنے لانے والے طالب علموں‌ کی گرفتاری کا حکم

کراچی کے سیشن کورٹ شرقی میں کراچی یونیورسٹی کے لیکچرار حسن عباس کی درخواست951/2018 پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے سما ٹی وی کی رپورٹر سونیا شہزاد اور ہراسانی کا سامنا کرنے والی طالبات کو مجرم قرار دیا۔

عدالت نے استاد پر غلط الزام لگا کر بدنام کرنے اور اسکی جان کو خطرے میں ڈالنے پر نجی ٹی وی سماء کی رپورٹر سونیا شہزاد، طالبات شفاء امتیاز اور کومل شاہد اور طالبعلموں زوہیب، ازلال، احسن، ثاقب اور طلحہ کو دفعات 501، 502، 503، 504،505 اور 506 تحت مجرم قرار دیتے ہوئے فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا.

عدالت کی جانب سے مجرمان قرار دیے جانے والے طلباء و طالبات پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 میں فیل کیے جانے پر سماء کی رپورٹر سونیا شہزاد سے مل کر استاد حسن عباس کے خلاف ہراسگی کی جھوٹی مہم چلائی تھی جس سے نا صرف استاد کی بدنامی ہوئی بلکہ اسکے والد کے لئے بھی یہ خبر جان لیوا ثابت ہوئی۔

معزز جج جاوید حیدر پھلپھوٹو نے ریماکس دیتے ھوئے کہا کہ کسی طالب علم کو فیل کرنا اگراسطرح استاد کی جان کے در پے آجائے تو جامعات کو پاس اور فیل کی پالیسی ھی ختم کر دینی چاہیے۔ یاد رہے یہ مقدمہ ضلع شرقی کی عدالت میں 2018 سے زیرِ سماعت تھا۔