Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
صوبوں سے متعلق ایم کیو ایم کی قرارداد پر آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری، پی پی اور سندھ کی جماعتوں کی ریاست کو خطرناک نتائج کی دھمکی | زرائع نیوز

صوبوں سے متعلق ایم کیو ایم کی قرارداد پر آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری، پی پی اور سندھ کی جماعتوں کی ریاست کو خطرناک نتائج کی دھمکی

اسلام آباد: ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی جانے والی انتظامی یونٹ کی قرارداد کے آفٹر شاکس جاری ہیں اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سندھ کی جماعتیں اپنا شدید ردعمل دے رہی ہیں۔

پی پی کی سینیٹر سسی پلیجو کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا بل ملک کے خلاف سازش کے مترادف ہے، جو بل پیش کیا گیا اس سے ایم کیو ایم کے مقاصد کھل کر سامنے آگئے ہیں، قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا بل سندھ دھرتی کے ساتھ کھلی غداری ہے، جغرافیائی حوالے سے فیصلہ کرنا صوبائی اسمبلیوں کا اختیار ہے، پی ٹی آئی فروغ نسیم جیسوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر سندھ دشمنی باز آجائے، بل کو فورن ھمیشہ کے لئے ھر آئینی اور پارلیمینٹری فورم سے ہٹایا جائے، ان حالات میں اس حکومت کے خلاف جدوجھد اور بھی لازم اور ضروری ہوگیا، سندھ ایک ہے ایک ہی رہے گا، ایک مرتبہ پھر پرامن طریقے سے واضع کرتے ہیں کہ عوام کے جذبات کو چھیڑا گیا تو حالات کسی کے بس میں نہیں رہے گا، صوبوں کے اختیارات پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سندھ کے خلاف کسی بھی پیش رفت کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

ہر حد پار کریں گے، اگر کوئی قرارداد پاس ہوئی، سعید غنی کا خطاب

وزارت آئی پی سی نے سندھ کابینہ کو اس ترمیم پر خط لکھا تھا، خط میں ایم۔کیو ایم نے کچھ ارکان کا ذکر کیا گیا جس کی جانب سے قرارداد پیش کی تھی، سندھ کابینہ نے اس خط کو رد کیا اور اس کی مخالفت کی، اس ترمیم سے نہ صرف سندھ بلکہ بلوچستان اور کے پی کو بھی نقصان ہوگا، آرٹیکل 239 کے کلاز فور میں یہ اختیار صرف صوبے کو دیا گیا ہے، اس ترمیم کی منظور صدر پاکستان بھی دوائی اکثریت سے صوبائی اسمبلی کی سفارش کے بناء ممکن نہیں، آرٹیکل 239 کا کلاز 4 ہٹا دیا جائے تو بھی 342 ارکان کے ایوان میں سندھ کے ارکان کے بناء فیصلہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے، ٹو تھرڈ میجارٹی میں 225 ارکان سے اس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے، سندھ کے تمام 75 ارکان نکال کر بھی یہ اکثریت سے سندھ کی تقسیم کی کوشش کی جارہی ہے، پی ٹی آئی نے ارکان نے اور وزیر پارلیمانی امور نے اس ترمیم کی حمایت کی اور اسے کمیٹی کو بھیجا ہے، اس ترمیم سے بلا صوبوں کی رضامندی کے فیصلہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، صوبہ سندھ کسی کے باپ کی ملکیت نہیں صوبے کے عوام کی ملکیت ہے، ہم سندھ، بلوچستان اور دیگر صوبوں کو یہ حق نہیں کہ ہمارے فیصلے کریں، اور 8 ترمیم سے صوبوں میں دوریاں ختم ہوئی ہیں، پی ٹی آئی ایم کیو ایم کے ہاتھوں استعمال ہورہی ہے اور وفاق سے کھلواڑ کررہی ہے، آئیں میں عدالت میں بھی نہیں جایا جاسکتا اور صوبوں کے مطالبے کے بغیر ایسا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، پنجاب اکثریت کے باعث اس ترمیم میں کردار ادا کرسکتا ہے سوائے دوسرے صوبوں کی مرضی کے بغیر اس ترمیم تو کچرہ کنڈی میں ڈالنے کے لائق تھی، اگر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس طرح کا فیصلہ کیا گیا تو ہم ہر حد تک جاسکتے ہیں، ان کو پتا نہیں ہم۔کس حد تک جاسکتے ہیں ان کی سوچ سے بھی بھت کچھ ہوسکتا ہے، ایم کیو ایم اپنے سابق لیڈر کی سوچ کو۔ختم۔کرے اس سے صوبے میں نفرت کے سواء کچھ نہیں ہوگا۔

اسپیکر کا ایم کیو ایم اراکین کو لقمہ، کیا آپ سندھ کے خلاف ہیں؟ 

 

رکن اسمبلی غلام قادر چانڈیو نے ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کی مخالفت میں ایک نئی قرارداد ایوان میں جمع کرائی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ قرارداد صوبوں کی حدبندی پر قومی اسمبلی میں ترمیم جمع کرنے کے خلاف پیش کی گئی، سندھ حکومت وفاقی حکومت سے رابطہ کرکے فیڈرل ازم کے معاملے پر بات کی جائے، اپوزیشن کا شور شرابہ اسپیکر کی ڈائس کے سامنے آگئے۔ اس موقع پر اسپیکر اسمبلی نے ایم کیو ایم اراکین کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ سندھ کے خلاف ہیں، اگر آپ سندھ کے خلاف ہیں تو شور کریں کچھ بھی ہوجائے سندھ کی تقسیم ہم برداشت نہیں کریں گے،ایک ایک بچہ مر جائے گا کٹ جائے گا سندھ کی تقسیم کی بات برداشت نہیں کریں گے۔

ایم ایم اے کے رکن سید عبدالرشید کی قرارداد پر تقریر

آج پھر سندھ کی تقسیم اور مسائل پر بات ہوئی ہے ہم اس قراداد کی حمایت اور ترمیم کی مخالفت کا اعلان کرتا ہوں،محمد حسین کا لقمہ ان کا تو قومی اسمبلی میں رکن ہی نہیں ہے وہ بات کررہے ہیں،حوصلہ رکھیں ابھی تو بولنا شروع کیا ہے عبدالرشید کا جواب،کل جب عالمی عدالت میں کیس گیا تو وہ پی ٹی آئی کی قیادت تھی جس نے الزام لگایا کہ کراچی سے جناح پور کے نقشے برآمد ہوئے ہیں،74 سالہ تاریخ میں عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے سندھی، مہاجر کی سیاست کی گئی،اس وقت ملک کے مسائل غربت، اور معاشی مسائل مہنگائی ہے،ملک کا بازو بھی کھویا گیا،18 ترمیم بنی تو اس میں ایم کیو ایم، ن لیگ، پیپلز پارٹی بھی شامل تھی،کیا کراچی کو روزگار، پانی اور کچرہ نہیں اٹھتا تو اس کا ذمہ دار آرٹیکل 342 ہے،اس وقت خواہشات کی تکمیل نہیں ضروریات پوری کرنے کے اقدام کی ضرورت ہے،اس وقت ٹو تھرڈ صوبے کا جو اختیار ہے اس کے چھیننے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں،اس وقت زبانوں، فقہوں، اور لسانیت میں بٹے ہوئے ہیں مگر سندھ کا سندھی خود مسائل کا شکار ہے،سندھ کی تقسیم اختیار کے لیئے نہیں ہونا چاہیئے کہ وزیر اعلی اردو بولنے والا اور سندھی گورنر بن،اس وقت کا مسئلہ ایماندار اور ڈلیور کرنے والے کو اختیار ملنا چاہیئے،پوری قوم۔کو بیوقوف بنانے کے لیئے لوگوں کو بانٹا جارہا ہے،کون مسئلہ حل کرے گا پانی، بجلی اور کشمیر کا مسئلہ حل ہو،ہمیں وہ ملا نہیں چاہیئے جو ازاں دے اور نماز نہ پڑہے،خدارا پاکستان اس وقت مشکل دور میں بٹا ہوا ہے اور اتحاد کی ضرورت ہے،مسائل کا حل بیٹھ کر حل نکالنا اور حقوق دینا ہے جو عام لوگوں کا حق تلف کیا جارہا ہے،غالب استحصالی طبقہ لوگوں کی بیچیں کو استعمال کررہا ہے،ہم بنگلادیش کی صورت میں نتائج بھگت چکے ہیں،پچھلی دفع ایک دفعہ وزیر نے شوشہ چھوڑا اس میں مہینہ نکل گیا اور پھر کچرہ اور اب ایک اور اشو چھوڑا گیا،حکومت لوکل گورنمنٹ کو بااختیار کرے اور ان کے مسائل حل کرے،میئر بھی اختیار کا رونہ رو رہا ہے،بلدیاتی نظام اپنی مدت پوری کررہا ہے مگر پنجاب میں کیوں نظام معطل کیا گیا،وہاں ایک اکائی کو برداشت نہیں کیا جاتا اور آپ نکلے ہیں صوبوں کی بات کرنے کے،اس وقت صوبوں کی تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں نہ ہی انتشار کی ضرورت ہے۔

نصرت سحر عباسی 

جی ڈی اے بھی پی پی حکومت کی قراداد کی حمایت میں آئی اور نصرت سحر نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ قراداد کی مخالفت میں قرارداد پیش کردی، قرارداد پر ہمیں بتایا نہیں گیا نہ ہی بتایا جاتا ہے، اگر ہمیں پتا نہیں تھا کہ اس طرح کی قرارداد تھی ورنہ ہم۔کبھی احتجاج میں شامل نہ ہوتے، ہم اس ترمیم کے مخالف ہیں اس کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے نہ ہی ہماری پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے، میرا تیسرا دور ہے اسمبلی میں اور میری ہارٹ نے اپنی دھرتی سے محبت کا اظہار کیا ہے، سوال کرتی ہوں کون جی ڈی اے کا سربراہ ہے، وہ ہے پیر پگاڑا اس نے پہلے ہی اعلان کیا ہوا ہے کہ جب تک ایک حر زندہ ہے وہ سندھ کی وحدت کے خلاف کوئی برداشت نہیں کرے گا، 2012 میں پیپلز پارٹی نے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لیئے ایم کیو ایم کے ساتھ بیٹھے، وہ بل اس اسمبل میں پاس ہوا اور ایم کیو ایم کی بات کو تسلیم کیا تو پیٹ صاحب باہر نکلے اور سب باہر نکل پڑے، جب سب باہر نکلے تو پیپلز پارٹی نے بل واپس لیا اور آپ لوگ اجرک پہن کر باہر نکل کر وارث بن بیٹھے، قومی اسمبلی میں اگر ایسا بل آیا جب تک ہم زندہ ہیں تو کوئی سندھ کو تقسیم نہیں کرسکتا، میں آپ کے جذبات کو سلام کرتے ہیں سندھ کی تقسیم کا کسی صورت حصہ نہیں بنیں گے، جو ساتھ بیٹھے ہیں ان کو بھی یہ بتائیں اسپیکر کا نصرت سحر کو لقمہ

 

انتظامی یونٹ یا نئے صوبے راہ ہموار، ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی میں‌ اہم اقدام