لال مسجد فاؤنڈیشن نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو چلینج کردیا

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں واقع لال مسجد سے منسلک شہداء فاؤنڈیشن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کی قانونی حیثیت کو چیلنج کردیا۔

شہداء فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے ایڈووکیٹ طارق اسد کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مشتبہ ٹھکانوں پر کریک ڈاؤن کے خلاف ایک پٹیشن دائر کی۔

پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ قانون اس قسم کے آپریشنز کی اجازت نہیں دیتا، درخواست میں سیکریٹری دفاع اور داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق 13 فروری 2017 کو مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے باہر ہونے والے خودکش حملے میں پولیس افسران سمیت 15 افراد جاں بحق ہوئے، جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

پٹیشن میں کہا گیا، ‘پاکستانی حکام کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے ہوئی، جہاں کالعدم تنظیم کے ٹھکانے موجود ہیں’۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 16 فروری کو سیہون میں صوفی بزرگ لال شہاز قلندر کے مزار پر خودکش حملے کے نتیجے میں 88 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

پٹیشن کے مطابق، ‘ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے 17 فروری کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ سیہون دھماکے کے بعد پورے ملک میں 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا’۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کو سرحد پر کڑی نگرانی کے خصوصی احکامات دے دیئے گئے۔

مزید کہا گیا کہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ وفاقی حکومت اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ حملوں اور دہشت گرد کارروائیوں کی ذمہ داری افغان حکومت پر ڈالی ہے جبکہ 76 دہشت گردوں کی فہرست بھی افغان سفارتی حکام کے حوالے کی گئی۔

دوسری جانب فوج کا دعویٰ ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن کے دوران 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کیا گیا۔

مزید کہا گیا کہ حکومت اپنی ناکام خارجہ پالیسی کی بناء پر شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے، ساتھ ہی کہا گیا کہ متعلقہ حکام کو پاکستانی شہریوں کو قانونی کارروائی کے بغیر گرفتار کرنے اور انھیں ہلاک کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت کرے کہ وہ حالیہ دہشت گردی کی لہر کے دوران شروع کیے گئے آپریشن کے دوران ہلاک کیے گئے افراد کی فہرست فراہم کرے۔

مزید کہا گیا کہ حکام کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں کو گرفتار کرنے سے بھی روکا جائے۔

یہ خبر 21 فروری 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

(بشکریہ ڈان نیوز اردو)

اپنا تبصرہ بھیجیں: