صحافی بھائیوں کے نام کھلا خط

آج میں آپ سے براہ راست مخاطب ہوں ۔۔قتیل شفائی نے کہا تھا کہ دنیا میں کوئی اس سا منافق نہیں قتیل ۔۔جو ظلم تو سہتا ہے ، بغاوت نہیں کرتا ۔ ۔۔ آج میں آپ کو اپنا ساتھ دینے کی دعوت دے رہا ہوں ۔میری جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں آپ سب کے حقوق کے لیے ہے ۔اگرآپ آج باہر نہیں نکلے تو کل تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی ۔مجھے رہنمائی کا شوق نہیں ہے اور نہ میں اس کا دعویدار ہوں ۔میں تو بس علم لے کر نکل گیا ہوں ۔یہ آپ کی اپنی جدوجہد ہے ۔ خوف کو اپنے دلوں سے نکالیں ۔رزق کا وعدہ اللہ کا ہے ۔کسی خوف اور مصلحت کا شکار ہو کر اپنے آپ کو لوگوں کے لیے ترنوالہ نہ بنائیں ۔ کل کراچی پریس کلب کے باہر سے ایک ایسی جدوجہد کا آغا ز ہونے جارہا ہے جس میں شرکت سے آپ اس قافلے میں شریک ہوجائیں گے جو ظالم کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں شامل ہے ۔تاریخ آپ کو ان لوگوں میں شامل کرے گی جو کسی جبر کے سامنے نہیں جھکا اور جس نے کلمہ حق ادا کرکے رسم حسینی کوزندہ رکھا ۔فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے ۔بقو ل فیض احمد فیض کہ جب تخت کرائے جائیں گے ۔۔۔۔جب تاج اچھالے جائیں گے ۔۔۔۔ہم دیکھیں گے ۔۔۔لاز م ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ۔۔۔۔وقت آگیا ہے کہ ہم سب زمانے کو دکھادیں کہ ہم اتنے بھی لاچار و بے بس نہیں ۔۔۔۔ہم نہ صرف خود دیکھیں گے بلکہ زمانے کو بھی دکھائیں گے کہ صحافی بر

ادری اپنا حق لینا جانتی ہے

والسلام

آ پ کا بھائی

عمیرعلی انجم

اپنا تبصرہ بھیجیں: