کراچی:‌ آفاق احمد کا پڑوسی قتل

کراچی(کرائم رپورٹر+ راﺅ عمران اشفاق) آج صبح کلفٹن میں عبداللہ شاہ غازی مزار کے قریب26 اسٹریٹ پر مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کے کے پڑوس میں واقع بنگلے سے باپ بیٹے کی نعش ملی‘ دونوں کو چھریوں کے وار کرکے بے دردی سے قتل کیا گیا۔ یہ علاقہ انتہائی حساس شمار کیا جاتا ہے جہاں سیکیورٹی بہت سخت ہے۔

پولیس کے مطابق 60 سالہ ڈاکٹر فصیح عثمانی او ر بیٹے کامران عثمانی کونامعلوم افراد نے سوتے ہوئے گلے پر چھری پھیر کر قتل کیا‘ پولیس کے مطابق قتل کی کی واردات ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے یا پھر ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا گیا‘ معاملے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب ایس ایچ او کلفٹن پیر شبیر کے مطابق نقد رقم، لیپ ٹاپس، موبائل فونز، زیورات اور دیگر بھاری قیمتی اشیاء گھر میں جوں کا توں موجود ہے اور ملزمان نے بظاہر کسی چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ پولیس کے مطابق واردات کس تیزدھار آلہ سے ہوئی یہ بھی معلوم نہیں کیونکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان آلہ قتل بھی ساتھ لے گئے۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن طارق دھاریجو نے بتایا کہ گھر میں کوئی چوکیدار اور سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں، واردات میں کوئی گھر کا بھیدی ملوث لگتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خاندان کراچی سے امریکا منتقل ہونے کی تیاری کر رہا تھا، کلفٹن کے جس علاقے میں یہ واردات ہوئی، سندھ حکومت کی اہم ترین شخصیات رہائش پذیر ہیں، پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

دریں اثناءآج صبح خداد کالونی کے قریب موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرزنے پولیس افسر کی کارپر فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا‘ ملزمان پولیس کے سامنے فرار ہوگئے‘ ٹارگٹ ہونے والا پولیس افسر کراچی آپریشن کا اہم کردار تھا‘ اطلاعات کے مطابق آج بریگیڈ کے علاقے شارع قائدین پر خداد کالونی سوسائٹی بلڈنگ اور اللہ والا شیر مال ہاﺅس کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ٹریفک جام کے دوران ساﺅتھ انویسٹی گیشن زون میں متعین سب انسپکٹر غوث عالم کو گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا‘ غوث عالم کراچی آپریشن کے اہم کردار میں ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کررہا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے غلام غوث کو سرپر گولی ماری تھی‘ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولی کے خول پولیس نے تحویل میں لے لیا‘ جس جگہ ملزمان نے فائرنگ کی ‘ اس سے چند گز کے فاصلے پر پولیس چوکی موجود ہے‘ جبکہ پولیس موبائل بھی موجود تھی‘ جناح اسپتال شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے قومی اخبار کو بتایا کہ غلام غوث کو چہر ے پر گولی لگی تھی‘ وہ بات چیت کررہے تھے‘ اس کو ابتدائی طبی امداد کے بعد آغاخان اسپتال منتقل کردیا گیا‘ پولیس ذرائع نے بتایا کہ انسپکٹر غلام غوث کراچی آپریشن کے دوران سی آئی اے صدر ‘ ایس آئی یو میں متعین تھے‘ آئی جی سندھ کلیم امام نے پولیس افسر کی کارپر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے‘ ادھر لانڈھی مانسہرہ کالونی میں بلال مسجد کے قریب گولی لگنے سے نوجوان کامران زخمی ہوگیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: