شاہد اب “حیات” نہیں رہا، تحریر طحہ عبیدی

سنکی تھا، کبھی مستی کرتا ، کبھی سنجیدہ ہوجاا ، غلطی نہ ہو تو لڑنے مرنے کو تیار اورغلطی پر معافی کا طلب گار ، جینس ٹی شرٹ پہن کر سگریٹ سلگائے تو فلمی اداکار لگے ، پینٹ کوٹ پہن کر سامنے آجائے تو انگریز لگے ، وردی پہن کر پولیس افسر لگے ، کبھی کھڑوس لگے ، کبھی عاشق مزاج ، کبھی دوست ، کبھی سنجیدہ ، یہ شاہد حیات کی زندگی کے رنگ تھے ۔

میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں شاہد حیات نے جیل کاٹی ،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نوکری کی ، کبھی سائڈ پوسٹنگ تو کبھی کلیدی کردار نبھاتے ہوئے نظر آیا ، ڈی آئی جی سی آئی ڈی (کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) تعینات کیا گیا تو دہشت گردوں کے پیچھے لگ گیا ، عباس ٹائون میں ہونے والے دھماکے کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا تو طالبان کی دھمکیوں کا مقابلہ کرتا رہا ، سی آئی ڈی میں تعیناتی کے دوران شاہد حیات سے ایک سوال ہوتا تھا جان کا خوف تو ہوتا ہوگا ، جواب دیتا “کام کرنا چھوڑدیں” اور مخصوص مسکراہٹ سے بات ختم کردیتا ۔

یہ شاہد حیات نہیں عجیب بے چین اور پاگل سا آدمی تھا ، جیل کاٹی ، دہشت گردوں کی دھمکیوں کا مقابلہ کرتا رہا اور پھر کراچی پولیس چیف لگ گیا ، اب کی بار ٹاسک تھا شہر قائد میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنا، عدالت میں حقائق پر مبنی رپورٹس جمع کرائیں ، سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز ، لیاری گینگ وار کو نکیل ڈالنے میں لگ گیا ، شاہد حیات نے فنڈز کا منہ جوانوں کیلئے کھول دیا اور اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کو انعامی رقم سے نوازا ، تھانے کی سطح پر افسران شاہد حیات سے جڑتے چلے گئے اور حیات کامیابی سے کراچی آپریشن کے تیسرے مرحلے پر پہنچ گیا ،کبھی متحدہ مخالفت کرتی تو کبھی پیپلزپارٹی شاہد حیات سے ناراض نظر آتی لیکن یہ سنکی شاہد حیات کندھے اُچکاتا اور مخصوص انداز میں کہتا “او جی دیکھ لیں گے ان کو بھی ” اور بات ختم کردیتا۔

کھڑوس شاہد حیات وفاقی تحقیقاتی ادارے میں تعینات ہوگیا ، جعلی ڈگری اسکینڈل آگیا ، طاقتور میڈیا گروپ اور ایگزیکٹ کے دفتر میں گھس گیا ، ریکارڈ تحویل میں لیا اور تحقیقات شروع کردی، بھرپور مخالفت کا سامنا کیا اور کام کرتا چلا گیا ، “شاہد”تو اب”حیات”نہیں لیکن شاہد حیات کے جنازے میں دوستوں اور مخالفوں کی شرکت سے شاہد حیات ضرور مسکرایا ہوگا ، سندھ پولیس میں ویسے تو بہت افسران ہیں لیکن پولیس ڈیپارٹمنٹ شاہد حیات کی کمی کو ہمیشہ محسوس کرے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: