شہر قائد میں واقع فریئر ہال میں جاری فن پاروں کی نمائش ’کراچی بینالے‘ کو اتوار کے روز اُس وقت روک دیا گیا جب وہاں 444 علامتی قبریں بنا کر راؤ انوار کے خلاف احتجاج کی کوشش کی گئی، اس موقع پر نقیب اللہ محسود کے والد کی 7 منٹ کی ویڈیو بھی چلائی گئی مگر کچھ سادہ لباس میں آنے والے لوگوں نے اسے فوری بند کروادیا۔
سادہ لباس میں آںے والوں نے اپنا تعلق حساس ادارے سے بتایا اور یوں تقریب کو ختم کردیا گیا جس کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے کو ملا، سماجی رہنما جبران ناصر اور دیگر نے رات وہاں پریس کانفرنس طلب کی تو اُس موقع پر بھی ڈی جی پارکس پہنچ گئے جہاں کچھ بدمزگی ہوئی اور پریس کانفرنس کو زبردستی رکوانے کی بھی کشش کی گئی۔
جبران ناصر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ بات کررہے تھے تو ڈی جی پارکس نے مائیک اٹھا کر پھینکے، بعد ازاں جبران ناصر کو دکھا دیا تو انہوں نے چیخ کر کھا۔
ڈی جی پارکس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارک کو قبرستان بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ بہت حساس معاملہ ہے، ہماری افواج بھی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ دنیا بھر میں پاکستان سے متعلق کیا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔
ڈی جی پارکس آفاق مرزا نے نمائش ختم کروائی اور کہا کہ آرٹ کے نام پر اجازت لے کر کچھ اور کام کیا گیا جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اس طرح کی نمائش سے شہر کو نقصان پہنچا۔
راو انوار کے خلاف مظاہرہ، فیرئیر حال میں تقریب بند کروادی گئی، پریس کانفرنس بھی نہ کرنے دی گئی، جبران ناصر اہلکار سے الجھ پڑے#FererHall pic.twitter.com/9D0FrxXn8h
— ذرائع نیوز (@ZarayeNews) October 27, 2019
مصورہ عدلیہ کی نمائش دو حصوں پر مشتمل تھی جس میں سے ایک کمرے میں موجود ویڈیو انسٹالیشن اور پانچ پینٹنگز تھی جنہیں بند کیا گیا باقی کمرے کے اندور موجود مصنوعی قبریں تاحال موجود ہیں۔
مجسمہ ساز عدیلہ سلیمان نے انڈپیندنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ’مجھے بتایا گیا کہ ان مجسموں کو آج رات ہی ہٹا دیا جائے گا، لیکن اگر یہ مجسمے کل بھی موجود ہوئے تو میں پھر جاؤں گی اور ان قبروں پر پھول لگاؤں گی۔‘ جب عدیلہ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے نمائش کے لیے اسی موضوع کا انتخاب کیوں کیا تو انہوں نے کہا: ’میرا کام ہمیشہ سے تشدد کے خلاف رہا اور ہر بار میں ایک کہانی کی بنیاد پر اپنا کام پیش کرتی ہوں۔‘
’اس بار میں نے نقیب اللہ محسود کے قتل کے حوالے سے بات کی۔ میں اپنے آرٹ کے ذریعے احساسات سے کھیلنا چاہتی تھی اور میرا ارادہ کوئی سنسنی پھیلانا نہیں تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا آج صبح سے ہی اس نمائش کی بازگشت تھی اور لوگوں کو میرا کام پسند بھی آرہا تھا۔ ’لوگ نقیب اللہ کے والد کی ویڈیو دیکھ کر میرے باقی آرٹ ورک کو سراہا رہے تھے، مگر پھر اچانک کچھ لوگ آئے اور پوچھا کہ یہ کس کا کام ہے، میں ان سے ان کا تعارف پوچھا تو انہوں نے کہا میں ایجنسی سے ہوں اور میرے باس آپ سے بات کریں گے۔ اس کے بعد میرے پاس انتظامیہ کے لوگ آئے اور کہا کہ نمائش بند کروائی جائے کیونکہ ہمارے پاس ہزاروں جگہوں سے فون آرہے ہیں۔ کراچی میں پاکستان کا دوسرا بینالے ہفتہ 26 اکتوبر سے شروع ہوا جو 12 نومبر تک جاری رہے گا۔ کراچی بینالے میں پاکستان بھر سے مقامی فنکاروں کے علاوہ برطانیہ، اٹلی، جرمنی اور بھارت سمیت 16 ممالک سے آئے ہوئے آرٹسٹ ماحولیاتی بگاڑ، حیاتیات اور دیگر موضوعات پر اپنے فن پارے پیش کر رہے ہیں۔ کراچی میں پہلا بینالے اکتوبر2017 میں منعقد ہوا تھا جس میں امریکہ اور کینیڈا سمیت دنیا بھر سے 150 سے زائد مصوروں اور فنکاروں نے اپنے فن پارے پیش کیے تھے۔
https://twitter.com/MJibranNasir/status/1188476790274174976?s=20
