نامور ڈرامہ اور فلم لکھاری اور سینئر صحافی خلیل الرحما قمر کے حالیہ بیان کے بعد اُن پر شدید تنقید شروع ہوگئی، عروتوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہیں نے مختلف انداز سے اس مسئلے پر روشنی ڈالی اور خدا کی قسم کھا کر بتایا کہ پاکستان میں اُن سے بڑا فیمینسٹ کوئی نہیں ہے۔ خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں خواتین کو حقوق دینے کے حق میں ہوں مگر نیچے نیچے، جو لوگ یہ بات کرتے ہیں انہیں قرآن کی آیت پڑھنا چاہے۔
ڈرامہ اور فلم نگار کا کہنا تھا کہ ’’مجھے چند روز قبل ایک گروپ ملا جس نے خواتین کے حقوق کے بارے میں سوال کیا، میں نے ان سے پوچھا آپ نے ہمیشہ یہ خبر پڑھی پانچ مردوں نے ایک عورت کو اغوا کیا اور اُسے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا، اگر خواتین کو برابری کے حقوق چاہیں تو وہ مردوں کو اغوا کرکے انہیں گینگ ریپ کا نشانہ بنا کر دکھائیں۔
می ٹی مہم کے حوالے سے بھی انہوں نے تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ خواتین کی ایمانداری پر شک کی ضرورت نہیں، یاد رکھیں کہ مرد اپنی ساری کمائی بھی ایمانداری اور فخر کے ساتھ خواتین کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے، البتہ چند خواتین اعتبار کو توڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو دو اچھی اور بری میں بھی بیان کیا۔
