لاہور: مسلم لیگ ن نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مزید نہ چلنے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور اب ن لیگ کی قیادت بشمول مریم نواز آزادی مارچ میں شرکت نہیں کریں گی۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد شہباز شریف نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ رہائی پر جشن نہ منائیں بلکہ خاموش رہیں اور شکرانے کے نوافل ادا کریں جبکہ مسلم لیگ ن کی سی ای سی مٹینگ ہوئی جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
سی ای سی ممبر کا کہنا ہے کہ مولانا نے نوازشریف کی بات کو نظر انداز کیا کیونکہ سابق وزیراعظم نے جے یو آئی کے سربراہ کو تحریک چلانے کا مشورہ دیا تھا اور خط میں واضح کیا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کو لمبے عرصے تک چلایا جائے۔
ن لیگ نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کرلیا، آزادی مارچ کی حامی ن لیگ دھرنے میں شریک نہیں ہو گی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے خط میں دھرنے کا کہیں ذکر نہیں تھا، ن لیگ ہونے والی اے پی سی میں دھرنا چھوڑ کر ملک گیر احتجاج کی تجویز پیش کرے گی، ن لیگ کے مشاورتی اجلاس میں مڈ ٹرم الیکشن، ان ہاؤس تبدیلی، وزیر اعظم کے استعفے سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔
آزادی مارچ کے بعد اپوزیشن کیا کرنے جارہی ہے؟ اگلا پلان سامنے آگیا
دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیماری کے باعث ان کی صاحبزادی مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد فوری سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیاہے، وہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں بھی شریک نہیں ہونگی۔
