شہرقائدمیں مصنوعی قیادت عوامی جذبات کے برعکس غیرمتاثرکن ویژن کیساتھ نظام چلانے کی کوشش ناکامی سے دوچار
سندھ وشہر کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد خطرے میں دکھائی دے رہا ہے تاخیری حربوں سے بلدیاتی الیکشن کو ٹالنے کی کوشش، موجودہ بلدیاتی نظام ایم کیو ایم پاکستان کے لیے ناقابل برداشت آئندہ اس نظام سے انتخابات نہ لڑنے کا عندیہ، سپریم کورٹ کا سخت ڈنڈا آئے تو بلدیاتی انتخابات جلد ہوسکتے ہیں، یہ یقینی دکھائی دے رہا ہے کہ بلدیاتی نظام سندھ حکومت کی خواہشات کے عین مطابق ہوگا
کراچی: شہرقائدمیں مصنوعی قیادت عوامی جذبات کے برعکس غیرمتاثرکن ویژن کیساتھ نظام چلانیکی کوشش ناکامی سے دوچار۔بلدیاتی مسائل کے حل اور اس پر سیاست ایم کیوایم پاکستان کے بس کی بات نہیں چاروں طرف سے یہ جماعت مصنوعی اسٹک ہولڈر زکے نرغے میں ہے جواس شہرکے مسائل کوحل کرنے میں قطعی سنجیدہ نہیں اور نہ ہی ہونگے فی الحال ایم کیوپاکستان کو کسی گنتی میں شمارنہیں کی جاسکتا ہے وجوہات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
شہرقائد کا فرد واحد بننے کے جنون یامجبور کردینے کے عمل نے اس شہر کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے اور بلاشبہ شہرکے مسائل حل نہ ہو نے پر اہل کراچی ذہنی اذیت میں مبتلا ہے شہر قائد میں ایک پھر بلدیاتی انتخابات تاخیر کا شکارہونے جارہے ہیں، سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد خطرے میں دکھائی دے رہا ہے تاخیری حربوں سے بلدیاتی الیکشن کو ٹالنے کی کوشش پی ٹی آئی حکومت سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے پرصوبائی حکومت کے آگے کمزور دکھائی دے رہی ہے جس کی اہم وجہ بلدیاتی نظام ہے اسوقت پنجاب میں بلدیاتی نمائندگان کو فارغ کرنے کے بعد بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹرز تعینات ہیں اور مارچ کے مہینے میں تحریک انصاف کے متعارف کردہ بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں شدید اعتراضات کے باوجود ایک ایسا بلدیاتی نظام رائج ہے جسے کراچی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور بلدیاتی نمائندگان ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے یہ مظالبہ ذور پکڑ رہا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے انقلابی فیصلے کیئے جائیں تحریک انصاف کی حلیف جماعت ایم کیوایم پاکستان کے مئیر کراچی وسیم اختر کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر موجودہ بلدیاتی نظام کے ہوتے ہوئے آئندہ بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں تو نہ ہوں تو بہتر ہے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اب تک بضد دکھائی دے رہی ہے کہ وہ بلدیاتی نظام تبدیل نہیں کرے گی سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بلدیاتی نظام رائج کرنے کا اختیار صوبے کو حاصل ہے اس میں مداخلتی عمل انہیں معیوب لگ رہا ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان جو کہ اسوقت تحریک انصاف کے کاندھوں پرسوار ہے یا تحریک انصاف کو ایم کیوایم پاکستان کے ناتواں کاندھے درکار ہیں بلدیاتی نظام پر دو ٹوک موقف اختیار کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی کو گھٹنوں کے بل لانے میں ناکام ہیں اس صورتحال میں ملک کے دیگر صوبوں کے لحاظ سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تعطل کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اگر سندھ حکومت کے اونٹ کو کسی کروٹ بٹھا بھی لیا جاتا ہے تو وہ نئے بلدیاتی نظام لانے کے نام پر سال یوں ہی گزار دینے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے البتہ ماضی اپنے آپ کو دوبارہ دہرائے تو سپریم کورٹ کا سخت ڈنڈا آیا تو بلدیاتی انتخابات جلد ہوسکتے ہیں مگر اس میں یہ یقینی دکھائی دے رہا ہے کہ بلدیاتی نظام سندھ حکومت کی خواہشات کے عین مطابق ہوگا۔۔۔۔۔
