عالمی اردو کانفرنس کے پہلے روز کی جھلکیاں، شہر امڈ آیا، دوسرے روز کا شیڈول

آرٹس کونسل کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز کل سے ہوگیا، پہلے روز بڑی تعداد میں علم دوستوں اور ادب سے محبت کرنے والے لوگوں نے شرکت کی۔

پہلے روز اپنے شیڈول کے مطابق پروگرام ہوئے جن میں لوگوں نے شرکت کی البتہ ضیا محی الدین کا سیشن ایسا تھا کہ حال پہلے ہی بھر چکا تھا اور حد یہ تھی کہ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کی اہلیہ کے بھی اندر آنے کی جگہ نہیں تھی۔

کانفرنس ہفتے کے روز تک جاری رہے گی اور مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔

دوسرے روز کے پروگرام کا شیڈول

آغاز صبح 10:30 پر ہوگا، پہلا پروگرام آڈیٹوریم 1 میں موضوع شعر و سخن کا عصری تناظر کے نام سے ہوگا، اسی طرح 2 بجے نعتیہ اور ثائی ادب سے متعلق پروگرام ہوگا، 3 بجے کتابوں کی رونمائی ہوگی۔

آڈوٹیوریم 2 میں پہلا پروگرام تین بجے دبستان اردو اور بلوچ شعرا کے عنوان سے ہوگا، 8 بجے آڈوٹیوریم 1 میں محترمہ کشور ناہید کے ساتھ ایک نشست ہوگی، چار بجے فیص احمد فیض کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے سیشن ہوگا، آڈو ٹیوریم ون میں ساڑھے پانچ بجے اردو کی نئی بستیوں کے حوالے سے سیشن ہوگا۔

دوسرے دن کا اہم پروگرام آرٹس کونسل کے لان میں ہوگا جہاں نامور صحافی حامد میر اور عاصمہ شیرازی ’کیا اردو ادب اور صحافت زوال کا شکار ہے؟‘ کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ ساڑھے پانچ بجے جدید سرائیکی ادب کے نام سے اوپن تھیٹر ہوگا بعد ازاں نامور صحافی محمد حنیف کے ساتھ ساڑھے پانچ بجے ’پھٹے آموں کا قصہ‘ پر گفتگو کا سیشن ہوگا۔

ساڑھے 7 بجے آڈوٹیوریم 1 میں انور مسعود کے ساتھ ایک نشست ہوگی، سوا آٹھ بجے محفل موسیقی کا پروگرام سجایا جائے گا جس کے ساتھ ہی دوسرے روز کا شیڈول اختتام پذیر ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: