رضویہ عمارت منہدم ہونے کا واقعہ، ہلاکتوں‌ کی تعداد 16 ہوگئی، متاثرین بے یار و مددگار

کراچی: پرانا گولیمار میں رضویہ تھانے کی حدود میں گزشتہ روز زمیں بوس ہونے والی عمارت کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 16 کے قریب پہنچ گئی جبکہ ملبے میں اب بھی لوگ موجود ہیں جنہیں نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

گزشتہ رات تک حادثے کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق ہوئے تھے، ایدھی کی ریسکیو ٹیم نے ملبے سے دو لاشیں نکالیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی۔

عمارت منہدم ہونے کے بعد علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں کیں، بعد ازاں فلاحی ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچیں جن میں پاکستان آرمی اور رینجرز کی ٹیمیں بھی شامل تھیں، ریسکیوں رضا کاروں نے ملبے میں دبے تین بچوں کو زندہ نکالنے میں کامیاب بھی رہے۔

ملبے تلے دبنے والا معراج نامی نوجوان جس کا بھائی گزشتہ روز باہر کھڑے ہوئے کر اپنے بھائی کو تسلیاں دے رہا تھا اُس کا فون بھی رات آٹھ بجے کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، گزشتہ روز 36 زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 34 کو گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

متاثرین میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اب تک ہلاک ہونے والوں میں سے صرف 2 مرد جبکہ بچے اور خواتین شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کی اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جو ذمہ داران کا تعین کرے گی۔ متاثرین کو مقامی انتظامیہ یا سندھ حکومت کی جانب سے متبادل جگہ فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے وہ گلیوں میں ہی کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: