ادارہ ترقیات کراچی یونینز کانشترپارک۔۔ مظاہرےزیادہ۔۔۔۔کام کم۔۔۔۔

ادارہ ترقیات کراچی یونینز کانشترپارک۔۔مظاہرےزیادہ۔۔۔۔کام کم۔۔۔۔

 تجزیاتی رپورٹ :سید محبوب احمدچشتی

ادارہ ترقیات کراچی میں مظاہروں کے سلسلے شروع ہونے سے محکمہ جاتی امور کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا سونے پہ سہاگہ ادارے میں موجود تمام یونینز اپنے مظاہرے ادارہ ترقیات کراچی کے مختلف منزلوں پرکرتی نظرآتی ہیں اپنے ملازمین کے لیئے آواز بلندکرنا ہریونین کا حق ہے لیکن کچھ یونین کادائرہ کار کے ڈی اے کے اندر تک محدود ہے ادارہ ترقیات کراچی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے کچھ حاصل ہوسکتا ہے جب یہ تمام یونینز اپنے مظاہروں کا رخ  سندھ حکومت یا اسمبلیوں کی طرف لیکر جائیں اس صورتحال میں مزدور یونین اور لیبر یونین دونوں کا کردار بھی اس حوالے سے کچھ خاص نہیں رہا بے شک ملازمین کے حوالے سے انہوں کام کیئے ہونگے لیکن سندھ حکومت کے خلاف مظاہروں میں جانے کا حوصلہ پیدانہیں کرسکی تعمیراتی مثبت طرز فکراور ملازمین کے حقوق کے حوالے سے کے ڈی ایمپلائز یونین کاکرداراس حوالے سے بہتر کہا جاسکتا ہے کہ اسمبلی کے فلور پر ورک چارج ملازمین کے لیئے خواجہ اظہار الحسن نے آواز بلندکی اور دوسری جانب ادارہ ترقیات کراچی میں مختلف ادوار میں ایم کیوایم پاکستان کے اہم مرکزی رہنماوں نے ڈی جی سمیت ملازمین کے ساتھ ملاقاتیں کی،دیگر یونینز کی بات اگرکی جائے تو اپنے انداز میں وہ کسی نہ کسی انداز میں کام کررہی ہیں لیکن ادارہ ترقیات کراچی میں موجود تمام یونینز کو اپنے مظاہروں کو درست سمت میں لے جانے کی کوشش کرنی چاہیئے ادارہ ترقیات کراچی میں اپنی پاور شو کرنے کے بجائے سندھ حکومت یا وزیربلدیات کے سامنے اپنے ملازمین کے حقوق کے لیئے آواز بلندکریں وزیربلدیات اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے اکیلا ڈی جی بے بس اور مجبور ہوتا ہے کیونکہ انکے گرد دوسرے شہروں سے آئے ہوئے افسران کا دبائو ہوتا ہے ادارہ ترقیات کراچی میںکام کم اور مظاہرے زیادہ ہوتے ہیں مضبوط پلاننگ اورمتاثرکن ویژن کے ساتھ ادارہ ترقیات کراچی کی تما م مخلص یونین اپنے ملازمین کے جائز حقوق کے لیئے ادارے سے باہر نکل بھی اپنی نیک نیتی ظاہر کریں موجودہ صورتحال میں بدترین مالی بحران کا شکار ادارہ ترقیات کراچی کے ساتھ مختلف اور کچھ محکموں کے افسران کی سازشی مفاداتی طرز فکر نے ادارے کو تباہی کے دھانے پرلاکرکھڑا کردیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں: