یوم علی جلوس کے بعد گرفتاریاں، شیعہ تنظیموں کی سندھ حکومت کو آخری وارننگ

علامہ ناظر عباس تقوی
24 گھنٹے سے پہلے سندھ بھر میں تمام گرفتار افراد کو چھوڑ دیا جائے۔
اسکاؤٹس کی وردی کا بھی احترام کیا جائے۔
یہ قوم لاوارث نہیں ہے
تاریخ میں تمہارا نام سیاہ الفاظ میں لکھا جائے۔
ہمارے پاس مختلف آپشن ہیں۔
وزیراعلی اور آئی جی سندھ کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں۔
ہم نے بلوچستان کی پوری حکومت گرا دی ہے۔
ہم زنداں پر جانے سے گھبراتے نہیں ہیں۔
ہم نے اپنا لائحہ عمل طے کر لیا ہے
24 گھنٹے بعد ہم کوئی مذاکرات نہیں کریں گے۔
ہم۔نے جلوس بھی نکال لیا اور بندے بھی رہا کرا کر دکھائیں گے۔
ایرانی کیمپ میں عورتوں پر تشدد کیا ہے۔
اس سے حالات خراب ہوں گے۔
اگر حکومت ہم سے مزاکرات کر کے جلوس کر کے بات کر لیتی تو بہتر تھا
پورے سندھ کو امام باڑہ بنا دیں گے۔
250 تک افراد گرفتار ہیں۔
جلوس سے واپسی پر لڑکوں کو اٹھایا گیا ہے۔
مختلف تھانوں میں لوگوں کو رکھا گیا ہے۔
ہم ایک ایک تھانے کا دورہ کریں گے۔
ان کے ماں باپ گھبرائیں نہیں۔

شعیہ تنظیموں کے رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس
علامہ ناظر عباس تقوی کا پریس کانفرنس سے خطاب
ہم نے مشترکہ طور جلوس نکالا ہے۔
حکومت سندھ کے متعصبانہ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔
حکومت نے جو پابندی لگائی اس سے ہمارے لوگوں میں بے چینی پھیلی۔
حکومت سندھ کی جانب سے جو راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئی اس سے ملت تشیع میں بڑی بے چینی پائی گئی ہے۔
سندھ حکومت نے احمقانہ عمل کیا ہے۔
آج حکومت کی جانب سے پولیس گردی کی گئی ہے۔
ساری حکومتیں یہ باور کر لیں عزاداری ہمارا حق ہے۔
یہ ہم حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا ۔
حکومت نہیں بتائے گی کہ ہمیں جلوس نکالنا ہے کہ نہیں۔
ہم تصادم اور ٹکراؤ نہیں چاہتے ہیں۔
جب سندھ حکومت لاک ڈاؤن کا اعلان بھی نہیں کیا تھا لیکن ہم نے اپنی جماعتیں موخر کردی تھی
حکومت ہمیں کمزورسمجھ رہی ہے۔
حکومت احمق کی دنیا میں رہتی ہے ۔
سانحہ عاشور کے موقع پر 15 لاکھ لوگ موجد تھے۔
ہم ایک قوم ہیں
آئین ہمیں اجازت دیتا ہے ۔ڈاکٹر عارف ، شبیر میسمی اور دیگر علماء بھی موجود ہیں۔

ایف آئی آر واپس لی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: