کرونا ایس او پیز، کراچی کے تاجر سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار، احتجاج پر غور شروع

کراچی: شہر قائد سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے کرونا ایس او پیز کے نام پر کاروبار کی جلدی بندش کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے احتجاج کرنے پر غور شروع کردیا۔
تاجر تنظیموں نے مارکیٹس انجمنوں کا اجلاس طلب کیا جس میں کاروباری اوقات کار صبح دس سے رات 10 اور ہفتے میں ایک روز چھٹی کرنے کی تجویز پیش کی گئی، تاجر رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجروں کے تحفظات دور کرے اور کاروباری وقت و تعطیل کے فیصلے کو واپس لے۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں کی جلدی بندش کی وجہ سے عوام زیادہ تعداد میں پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے کرونا پھیلنے کا خدشہ ہے، تاجروں کے ساتھ شادی ہالز مالکان نے بھی سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے دیا۔
واضح رہے کہ حکومت سندھ نے کراچی میں کاروباری اوقات کو شام 6 بجے اور ہفتے میں دو روز جمعے اور اتوار کو مارکیٹیں و کاروباری مراکز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی احکامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے مقامی انتظامیہ بھی متحرک ہے اور وہ کسی کے ساتھ بھی کوئی نرمی نہیں برت رہی۔
تاجر رہنما احتجاج سے قبل سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کریں گے اس ضمن میں آج کراچی تاجر اتحاد کا وفد ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادر آباد پہنچا جہاں رابطہ کمیٹی کے اراکین نے اُن سے ملاقات کی اور تحفظات پر ساتھ دینے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اب تک کراچی میں 780 دکانیں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کی گئی ہیں جبکہ متعدد شادی ہالز اور ریسٹورنٹس بھی بند ہیں۔
