ڈاکٹر لیلی پروین کی تہلکہ خیز پریس کانفرنس
میر حسنین نے بیٹیوں کو ہراساں کیا، گھریلو ملازمہ کو بھی نہیں بخشا، تین سال پہلے زبانی طلاق دے کر ڈیڑھ کروڑ کی مالیت ہ کر تحریک انصاف کی خاتون رہنما لیلیٰ پروین نے اپنے شوہر میر حسنین علی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں جنسی درندہ قرار دے دیا
کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر لیلیٰ پروین نے اپنے وکیل کے ساتھ پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ شوہر میر حسنین سے میری 2016 میں شادی ہوئی، جس نے مجھ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، میری شادی کے بعد اُس کے خلاف 9 خواتین نے بھی شادیوں کے حوالے سے کیس دائر کرائےانہوں نے بتایا کہ ’ہر شادی میں علی حسین کے اہل خانہ بھی شامل ہوتے تھے ، علی حسن کسی اور کی زندگی برباد نہ کرے، اس وجہ سے حقیقت سامنے لارہی ہوں، کیونکہ وہ جنسی درندہ ہے جو شراب نوشی کرتا اور اپنے ہی گھر والوں کو ہراساں کرتا ہے۔
ڈاکٹر لیلیٰ پروین نے بتایا کہ ’میرے گھر میں کام کرنے والی 55سالہ خاتون کو میر حسنین نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، اب وہ مجھے ڈرا دھمکا کر قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جبکہ وہ میری ڈیڑھ کروڑ روپے کی مالیت ہڑپ کرگیا ہے، اُس نے میرے پیسوں سے گھر بنایا اور گاڑی بھی خریدی۔
تحریک انصاف کی خاتون رہنما نے دعویٰ کیا کہ ’میر حسنین نے میری بارہ سالہ بیٹی کو حراساں کیا اور نازیبا پیغامات بھیجے، وہ میری بچیوں کو لو یو کے میسج کرتا ہے ، علی حسن جنسی درندہ ہے، جس نے پانچ سال کی لڑکی کو جنسی حراساں کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران لیلیٰ پروین نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ’میری بیٹی بیمار ہوگئی وہ بول نہیں پائی، بچی نے اپنی بہن سے سب کچھ شیئر کیا ، اپنے بچوں کی میں ہی ماں اور باپ بھی ہوں ، مجھے زبانی طلاق دے دی گئی ہم دونوں کا 3 سالہ بچہ میرے پاس ہےانہوں نے کہا کہ ’میرے گھر پر فائرنگ کی گئی مجھے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، علی حسن کرمنل ہے درندہ ہے کلائنٹ کے ساتھ بھی جنسی تشدد کرتا ہے‘۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے ادارے نوٹس لیں، نکاح سنت ہے اسے پامال ہونے سے بچایا جائےڈاکٹر لیلیٰ پروین نے صدر پاکستان وزیراعظم چیف جسٹس سمیت اعلی حکام نوٹس لے کر کارروائی کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ پہلی بیوی کو بے خبر رکھنے اور نئی شادی کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ وہ کسی اور کی زندگی خراب نہ کرےاُن کے وکیل ثاقب اعوان نے بتایا کہ’ درخشاں پولیس اسٹیشن میں میر حسنین کے خلاف ایف ائی ار درج ہے، سائبر کرائم کے حوالے سے ایف ائی اے سے بھی رابطہ کرینگے، سندھ بار اور کراچی بار میں بھی علی حسن کے خلاف 4 شکایت درج ہیں
