قبول اسلام کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کی خبریں غلط ثابت ہوئیں

قبول اسلام کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کی خبریں غلط ثابت ہوئیں

اسلام آباد: گزشتہ دو تین روز سے سوشل میڈیا پر ایک موضوع زیر بحث ہے اور وہ یہ کہ وزارتِ انسانی حقوق اسلام قبول کرنے کے لیے عمر کی حد کا بل اسمبلی میں پیش کرنے جارہی ہے۔

اس بل کے حوالے سے مذہبی جماعتوں اور رہنماؤں نے شدید اعتراضات اٹھائے جبکہ مفتی تقی عثمانی نے اس معاملے پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے خبر کو افواہ قرار دیا جبکہ وفاقی وزیر علی محمد خان نے بھی اسے مسترد کردیا۔

امت اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بل کو منظور کروانے کے لیے حکومت لابنگ کررہی ہے، مجلس احرار اسلام نے اس بل کے خلاف کھل کر مزاحمت کرنے کا اعلان بھی کیا جبکہ بتایا کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے تعاون سے اس بل کی راہ کو روکا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: