غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بلڈرز کے خلاف کرمنل کیس کے اندراج کا آغاز

کراچی: سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر غیرقانونی تعمیرات کرنے اور اس کام میں ملوث افراد کے خلاف کرمنل کیسز کے اندراج کا آغاز ہوگیا۔
ذرائع نویز کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کرنے والے بلڈروں، سہولت کاروں کے خلاف کرمنل کیسز چلیں گے، اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر پہلا کیس مکہ ٹیرس کے بلڈر محمد وسیم کے خلاف دائر کردیا گیا۔
استغاثہ کی جانب سے مکہ ٹاور کے بلڈر کے خلاف سیکشن 6 ایس بی سی اے خلاف ورزی پر کرمنل کیسز سیشن عدالت جنوبی میں دائر کیا گیا۔ جرم ثابت ہونے پر بلڈر کو تین سال سزا اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔
ایس بی سی اے حکام کے مطابق مکہ ٹیرس بلڈر کے خلاف کارروائی سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر کی گئی، جس سے عدالت کو آگہا کیا جائے گا۔
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں مکہ ٹیرس سے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں ایس بی سی اے حکام عدالت میں ٹیکنیکل ایکسپرٹ کے ساتھ پیش ہوئے۔
عدالت نے ایس بی سی اے وکیل سے استفسار کیا کہ اوپن اسپیس کلئیر کرانے کے لئے کتنے فلیٹ متاثر ہوں گے، جس پر ٹکنیکل ایکسپرٹ نے بتایا کہ تقریباً آٹھ فلیٹ متاثر ہوں گے، بائیں ہاتھ کے چار باتھ روم اور سیدھے ہاتھ کے چار کمرے متاثر ہوں گے۔
عدالت نے بلڈر کے وکیل سے استفسار کیا کہ کمپلیشن پلان کے بغیر کیسے فلیٹ دے دئیے۔ ایس بی سی اے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پوری بلڈنگ میں سولہ فلیٹ ہیں، کارروائی کے دوران 12 متاثر ہوں گے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ٹوٹل فلیٹ گرانا پڑیں گے تو گرائیں؟
جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا کہ بلڈنگ خالی ہوں گی تمام الاٹیز کی رہائش کا بندوبست کرے، الاٹیز کی تمام رہائشی سے متعلق اخراجات بلڈر برداشت کرے گا، الاٹیز کا کورڈ ایریا کم ہوجائے گا اگر وہ چاہیں تو بلڈر کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے والے اب پورے صوبے کے ریگولیٹر ہیں بلڈر معاوضہ دلوائیں ، الاٹیز کی رہائش سے متعلق بندوبست کرکے اپنی تجاویز دس نومبر تک عدالت کو آگاہ کریں۔ ایس بی سی اے کے وکیل نے بتایا کہ حکام کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا، جو ایک ہفتے میں مکمل کرلی جائیں گی،
عدالت نے مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر بلڈر کے وکیل سے الاٹیز کی رہائش کا بندوبست کرکے تجاویز طلب کرلیں۔ آج کی سماعت کے اختتام پر عدالت نے حکم دیا کہ اضافی جگہ خالی کرانے کے لیے پوری عمارت خالی ہوگی، بلڈر تمام مکینوں کو کرایے پر منتقل کرنے کا انتظام کرے، کرایے کے گھر کے اخراجات بلڈر برداشت کرے گا، عمارت میں اضافی جگہ گرانے کا خرچہ بھی بلڈر ادا کرے گا، مکینوں کو 15 روز میں متبادل کرایے پر منتقل کیا جائے گا، اضافی جگہ کم ہو گی تو عمارت کی قیمت بھی کم ہو جائے گی، بلڈر مکینوں کو اضافی رقم بھی واپس کرے گا۔
عدالت نے کہا کہ بلڈر سے پوچھ کر بتائے، اگر خود سے یہ سب کرے تو بہتر ہوگا، اگر بلڈر یہ سب کرنے کے لیے راضی نہیں تو پھر عدالت فیصلہ دے گی اور ایسا فیصلہ جاری کریں گے کہ بلڈرز آئندہ کاروبار نہیں کر سکے گا۔
نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔
ٹویٹر: twitter.com/zarayenews
فیس بک: facebook/zarayenews
انسٹاگرام : instagram/zarayenews
یوٹیوب: @ZarayeNews
