Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ٹی ایل پی کے بعد ایک اور تنظیم پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ | زرائع نیوز

ٹی ایل پی کے بعد ایک اور تنظیم پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

ٹی ایل پی کے بعد ایک اور مذہبی تنظیم پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

محکمہ داخلہ پنجاب نے جمعیت علمائے اسلام کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام پر عائد پابندی بھی ختم کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق انصار الاسلام پر پابندی لگانے کا ریفرنس کابینہ سے واپس منگوالیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ کابینہ کو چند ماہ قبل انصارلاسلام پر پابندی لگانے کا ریفرنس بھیجا تھا تاہم انصارالاسلام کے خلاف ریفرنس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق انصارالاسلام جمعیت علمائے اسلام کےسربراہ مولانافضل الرحمن کی تنظیم ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر تحریک لبیک پاکستان سے بھی پابندی ہٹا دی ہے۔

دوسری جانب کالعدم سپہ صحابہ نے بھی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔

علامہ اورنگزیب فاروقی نے حکومت سے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہؓ پاکستان پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔ علامہ اورنگزیب فاروقی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری جماعت پر سے بھی پابندی ہٹائی جائے اور فورتھ شیڈول سے لوگوں کو نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تحریک لبیک پر سے پابندی ہٹانے کے فیصلے کو سراہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم پر سے بھی پابندی ہٹائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبے پر کان نہ دھرے گئے تو اس کا مطلب ہے کہ سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکلے گا تو ٹیڑھی کرنا پڑے گی۔

بشکریہ : نیا دور


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر اکاؤنٹ @ZarayeNews
فیس بک @ZarayeNews