انسانی حقوق کی خلاف ورزی، ٹرمپ حکومت کا شام پر حملہ

واشگنٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شامی حکومت کے خلاف داغے گئے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں کے نتیجے میں 4 فوجی ہلاک جبکہ شامی ایئربیس مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے ردعمل کے طور پر بحیرہ روم میں امریکی بحری جہاز سے شام کے الشعیرات ائیربیس پر 59 ٹام ہاک کروز میزائل داغے گئے۔

واضح رہے کہ یہ وہی ایئربیس ہے، جہاں سے 4 اپریل کو شامی شہریوں پر مہلک گیس سے حملہ کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شام نے ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا، امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد کے لیے ضروری ہے کہ مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور استعمال کو روکا جائے‘۔

شامی مبصر تنظیم کے مطابق حملے کے نتیجے میں ایئر کموڈر سمیت 4 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ایئر بیس مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

مبصر تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ ’میزائل حملے میں الشعیرات ایئربیس کا رن وے، ایندھن کے ٹینکس اور فضائی دفاعی نظام ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گیا‘۔

تنظیم کے سربراہ رمی عبدالرحمٰن کے مطابق ایئربیس پر سکھوئی 22، سکھوئی 24 اور ایم آئی جی 23 لڑاکا طیارے موجود تھے ، جبکہ افسران کا کوارٹر بھی مکمل تباہ ہوگیا۔

وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا تھا میزائل یو ایس ایس پورٹر اور یو ایس ایس روس کے ذریعے داغے گئے جو امریکی بحریہ کے چھٹے بیڑے کا حصہ ہیں۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والا ایئربیس 4 اپریل کو ہونے والے خوفناک کیمیائی حملے اور شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے تعلق رکھتا تھا۔

پینٹاگون ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کے مطابق ان میزائلوں کے ذریعے شامی طیاروں، ایئر ڈیفنس سسٹم، پٹرولیم اور لاجسٹکل اسٹوریج، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد امریکی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر تنقید میں کمی آئی تھی تاہم دوروز قبل ہونے والے مبینہ گیس حملے کے بعد ٹرمپ نے پہلی مرتبہ شامی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

خیال رہے کہ دو روز قبل شام کے شمال مغربی حصے میں واقع باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں جنگی جہازوں کے ذریعے کیے گئے مبینہ مہلک گیس حملے میں متعدد بچوں سمیت 70 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ادلب میں ہونے والے کیمیائی حملے میں 70 کے قریب افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکثریت بچوں کی تھی اور ایسا ہونا ’تمام حدود کی پامالی ہے‘۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ انہیں حملے کی تفصیلات نے بہت متاثر کیا ’گذشتہ روز شام کے معصوم لوگوں کے خلاف کیا جانے والا حملہ انتہائی خطرناک تھا، جس میں خواتین اور انتہائی معصوم چھوٹے بچے مارے گئے، ان کی ہلاکت انسانیت کی توہین ہے‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’بشارالاسد کی حکومت کے ہولناک اقدامات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور دنیا بھر میں ہونے والے ایسے حملوں کی مذمت کرتا رہے گا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: