بلوچستان میں دستی بموں سے حملے ، 17 زخمی ، معصوم بچی بھی شامل

کوئٹہ،حب،خضدار:بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں2جبکہ حب اورخضدارمیں ایک ایک دستی بم حملہ کے نتیجہ میںبچی سمیت 17افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ میں سبزل روڈ پر واقعہ امیر محمد دستی پولیس تھانہ کے باہر نامعلوم افراد کی جانب سے دستی بم سے حملہ کے نتیجہ میں خاتون اور بچی سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے۔

نامعلوم افراد نے امیر محمد دستی تھانہ کے باہر 2 دستی بم پھینکے ایک کے پھٹنے پر دھماکہ ہوا جبکہ دوسرا نہ پھٹ سکا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملہ نے موقع پر پہنچ کر دوسرا دستی بم ناکارہ بنا دیا۔

زخمی افراد کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔علاوہ ازیں کوئٹہ میں سیٹلائٹ ٹائون میں چالو بائوڑی کے قریب تھانہ صدر کے سامنے نامعلوم افراد نے ناکہ پر پولیس اہلکاروں پر دستی بم پھینکا جس کے دھماکہ سے بچے سمیت 10افراد زخمی ہوگئے اورایک موٹر سائیکل تباہ ہوگئی۔ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

زخمی پولیس اہلکاروں میں محمد فاروق ، تنویراحمد اور ثنا اللہ شامل ہیں۔ترجمان سول ہسپتال کے مطابق حملہ کے 10زخمی افراد کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔زخمیوں کو ٹراما سنٹر میں طبی امداد دی جارہی ہے۔علاوہ ازیںبلوچستان کے علاقہ حب میں دستی بم کے دھماکے میں 3افراد زخمی ہوگئے۔

خضدار سٹی میں دستی بم سےپولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا،تاہم دھماکے میں سب جانیں محفوظ رہیں ، گاڑی اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ کے پیش نظر وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں صوبہ میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کئے جائینگے، سکیورٹی اداروں کو بھی کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔