کراچی:جامعہ کراچی میں مالی بحران کیخلاف اساتذہ ، افسران و ملازمین نے جامعہ بچائو تحریک فعال کردیَ ۔گذشہ روزاجلاس میں ریٹائرڈاساتذہ ، حاضر سروس اساتذہ، ملازمین اور افسران شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ اصول پسند استاد رہنماپروفیسر ڈاکٹر سہیل برکاتی ،پروفیسرڈاکٹر پرویز صدیقی ، انجمن اساتذہ کی صدر ڈاکٹرصالحہ رحمان ، سیکرٹری فیضان الحسن نقوی ، آفسیر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سیکرٹری فریدخان ،انصاف پسند گروپ کےافتخار ،انجمن کے سابق صدر ڈاکٹر شاہ عالی القدر ، محسن علی سنڈیکیٹ ممبر ، باسط انصاری سنڈیکیٹ ممبر ،حارث شعیب سنڈیکیٹ ممبر سمیت دیگر اساتذہ و ملازمین شریک ہوئے۔
اجلاس کے شرکاءکو بتایاگیا کہ جامعہ کراچی میں ڈائریکٹرفنانس طارق کلیم کی تعیناتی کے بعد سے آج تک چار برس میں بغیر بجٹ منظوری کے جامعہ کو ذاتی جاگیرکی طرح چلایاجارہا ہے۔
مالیاتی کمیٹی کانام ہی ختم کردیاگیا ،آڈٹ کوغیرموثرکردیاگیا،ناقص پالیسوں کی وجہ سےجامعہ مالی بحران کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ ہماراون پوائنٹ ایجنڈا جامعہ کراچی کو واپس اس کے مقام تک پہنچانااورملک کی بہترین یونیورسٹی کی نہج پر لاناہے ۔
اجلاس میں یونیورسٹی میں پائے جانے والے بحران پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ،مالی بحران کی وجوہات کے بارے میں نشاندہی کی گئی ، اس کے حل کی رائے دی گئی۔ جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ چندروز میں مزید لائحہ عمل طے کرکمیٹیاں بناکر اس کے بعد پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں جامعہ بچائو تحریک کے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
