سندھ حکومت نے کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے دوسری مرحلے کے معاملہ پر ایکشن لیتے ہوئے ایم کیو ایم سفارش پر تعینات کئے گئے تین ایڈمنسٹریٹرز کو عہدوں سے ہٹا کر 100 سے زائد افسراں کو کام کرنے سے بھی روک دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ایم کیو ایم کے تجویز کردہ کراچی شرقی، کورنگی کے ایڈمنسٹریٹرز کو بلدیاتی الیکشن تک عہدے ہٹا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کےاحکامات پر ڈی ایم سی شرقی کے ایڈمنسٹریٹر محمد شکیل احمد ڈی ایم سی کورنگی تعینات ایڈمنسٹریٹر محمد شریف اور ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد محمد فاروق ک تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا ہے۔
تینوں ایڈمنسٹریٹر ایم کیو ایم کی سفارش پر لگانے گئے تھے قوانین کے مطابق بلدیاتی الیکشن شیڈول اعلان کے بعد نئے افسران نہیں لگائے جاسکتے سندھ حکومت نے 100 سے زائد بلدیاتی افسران کام کرنے سے روک دیا ہے۔
کے ایم سی 18 گریڈ کے ڈاریکٹر جواد شاہ تاحکم کام سے روک دیا گیا عباسی شہید اسپتال کی ڈاریکٹر ایڈمنسٹریشن صائمہ عمران کا آرڈر بھی منسوخ کر دیا گیا مقصود ملاح ، ظفر خالد ، ذوالفقار وگن، کے آرڈرز بلدیاتی انتخابات تک معطل کر دیئے گے گریڈ 18 کے عزیز الرحمان تنیو ڈاریکٹر کنٹریکٹ مینجمینٹ ضلعہ قمبر کا بھی نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا ۔
علاوہ ازیں 19 گریڈ کے ڈاریکٹر کانٹریکٹ اینڈ مینجمینٹ علی شیر جعفری ضلع کاؤنسل ایڈمنسٹریٹر دادو عبدالکریم سومرو ٹاؤن کمیٹی نیو سعیدآباد ایڈمنسٹریٹر شکیل وسطرو کا نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا گیا سینیئر ڈاریکٹر کچی آبادی رفیق شاھانی ، کے ایم سی کے آفاق مراز ٹی اے اور رخسانہ اختر کا بھی نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کے ای ٹی او مدد علی کھوکھر سمیت 18 افسراں کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا ہے
