کراچی: تنظیم بحالی کمیٹی ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستارنے 11 جنوری کو حلقہ بندیوں کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے احتجاج میں شرکت کی دعوت قبول کرلی اورکہا کہ وہ اس میں شرکت کریں گے۔اتوار کو ایم کیوایم ہاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول نے وفد کے ہمراہ تنظیم بحالی کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
ملاقات میں ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر امین الحق ، ڈاکٹر صغیر احمد ، شکیل احمد ، خالد سلطان ارشد حسن ، ارشاد ظفیر ، طحہ خان شامل تھے۔ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے جمال احمد ، نگہت شکیل ، کامران فاروقی ، فیصل رفیق ، میجر قمر عباس ، نشاط ضیاء اور دیگر شریک ہوئے۔ ملاقات میں متنازعہ حلقہ بندیاں ، بلدیاتی انتخابات اور دیگر امور پر گفتگو ہوئی ۔
خالد مقبول نے ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے 11جنوری کو احتجاج میں شرکت کی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ متنازعہ حلقہ بندیوں کے خلاف اور مضبوط بلدیاتی نظام کے لیے ملکر آواز بلند کرنا ہوگی ڈاکٹر فاروق ستار نے خالد مقبول صدیقی کو حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاج میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرادی۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 40 سالہ جدوجہد میں اہم وقت ہے ۔قومی اتفاق رائے سے مہاجروں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے پہلے کم گنا گیا پھر ووٹر لسٹوں بے ضابطگیاں کی گئی ہے۔مہاجروں کے علاقے میں یوسی 90 ہزار سے ایک لاکھ پر بنائی گئی۔دوسری جانب سے 25 سے 30 ہزار پر ہوسی بنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوانوں الیکشن کمیشن اور عدلیہ میں گیا لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔11 جنوری کو الیکشن کمیشن کو باور کرانا ہے شفاف الیکشن کرانا آپ کی ذمہ داری ہے۔مشترکہ آواز کے لئے سب کے پاس جارہے ہیں۔اسی لئے فاروق ستار کے پاس آئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے خالد مقبول صدیقی اور ایم کیو ایم کے رفقاء کو خیرمقدم کیا۔ایم کیو ایم پاکستان نے درست فیصلہ کیا ہے ۔بڑا ظلم ہوا ہے نا انصافی ہوئی ہے۔مردم شماری میں کم گنا گیا ۔70 کی دہائی سے ہماری آبادی میں اضافہ ہی نہیں ہورہا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ اہم نقطے پرایم کیوایم پاکستان تحریک چلانے جارہی ہے۔ہم ماضی میں بھی مہاجروں کی آواز بنتے رہے۔یہ جو بڑا ظلم ہوا ہے اس پر احتجاج بنتا ہے۔برمی بنگالی ویتنامی روزگار کے لئے کراچی کا رخ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی نظر صرف مئیر شپ پر ہے۔مجھے یہ بو آگئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میں معاہدہ ہوگیا ہے۔یہ معاہدہ مہاجروں کے خلاف اور مہاجروں کو دیوار سے لگانے کا ہوا ہے ۔جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی اس ناانصافی میں برابر کی شریک ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد سے سب کا تعلق ہے۔پنجابی ، سندھیوں ، بلوچوں سمیت دیگر کو بھی سوچنا پڑے گا۔جماعت اسلامی کا پیپلز پارٹی کا پیکٹ ہوگیا ہے ہمیں بو آگئی ہے۔ہم ایک ہی فیکٹری کا پروڈکٹ ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ اگر ان حالات میں انتخابات ہوئے تو پھر ہوئے نا ہوئے برابر ہے۔
