اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو ڈیمز فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ
اسٹیٹ یبنک کے ساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے۔
دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عمل درآمد کیس میں دوران سماعت حکام اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی، ڈیمز فنڈ میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے اور سرکلر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے،
سیکریٹری پاور ڈویژن نے مزید بتایا کہ کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے جس میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں، بجلی چوروں کے خلاف کارروائی بھی پورے دل کے ساتھ نہیں کی جاتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکلر ڈیٹ پر تشویش ہے۔ سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکلر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے، بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔وکیل واپڈا نے بتایا کہ پاور ڈویژن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب روپے ادا کرنے ہیں، ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کے لیے بہت اہم ہیں۔ سیکریٹری واٹر نے بتایا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے اور ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سے اخراجات کم ہوں، اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔وکیل واپڈا نے کہا کہ سیلاب اور سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا، سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی، کورونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے اس لیے ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے۔عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
