ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پندرہ جنوری کو الیکشن نہیں ہونے دیں گے، ہم دیکھتے ہیں الیکشن کیسے ہوں گے، آپ کل حلقہ بندیاں ٹھیک کرلیں، پرسوں ہم الیکشن کیلیے تیار ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر حلقہ بندیاں درست نہ ہوئیں تو پھر ہم لڑ لیں گے کیونکہ جب ووٹ فیصلہ نہیں کرتا تو روڈ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے الگ الگ ہونے کا خوشی ہےکہ پاکستان کے سب لوگوں کو دکھ ہوا ہے، آج کا دن نکھرنے کا ہے، ہم بکھر نہیں رہے بلکہ نکھر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان زندہ آباد کا مینڈینٹ چوری کیا گیا، آر ٹی ایس اب بیٹھا تو پاکستان بیٹھ جائے گا، جس جس کو آنا ہے آجائے یہ دعوت عام ہے، یہاں جو آئے گا درد دل لیکر آئے گا۔
خالد مقبول صدیقی نے یہ بھی کہا کہ ہم نے پاکستان مردہ باد کہنے والوں کی سیاست کو ختم کردیا ہے، ہمارے اجداد نے یہ ملک بنایا اس لیے ہم زندہ باد کا نعرہ ہی لگاتے رہیں گے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ ہم کیا آئس کریم بیچنے بیٹھیں ہیں، کسی کا مینڈینٹ ٹوٹ رہا ہے تو انکو پریشانی ہے، ہماری فیصلے ٹھیک ہیں، کسی کا ہنی مون پریڈ ختم ہورہا ہے، پاکستان میں دئشت گرد بنانے والوں کو پکڑ لیں دہشت گردی ختم ہوجائے گی، کراچی میں لوگو ں کو حق نہیں مل رہا، حق نہ ملنے پر کوئی ردعمل دے تو ہھر اسکو دہشت گرد بنادیا جاتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی صفیں باندھ لیں ہیں، ہم نے اپنا راستہ بتادیا ہے اور اب اپنا حق پُرامن سیاسی جدوجہد سے لیں گے کیونکہ ہم نے ہتھیار رکھوا دیے ہیں‘۔
