کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر گواہی دے گا کہ ہم سب رات کے 1بجے تک اس شہر کو انصاف دلانے کے ساتھ ساتھ ہر بالغ شخص کی گنتی پوری کرنے اور ان کے ووٹ اور آزادی حق رائے دہی کیلئے کو شاں رہے ہم قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سڑکو ں کے بجائے ایوانوں، عدالتوں اور الیکشن کمیشن کے دفاتر گئے جس پر ہمیں عدالت اعظمٰی سے یہ جواب ملا کے حکومت سندھ اور الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا جائے جو کہ ہم نے کیا بھی حکومت سندھ نے ہمارے مطالبے پر عملدرامد کرتے ہوئے آرڈر تو نکالا مگر الیکشن کمیشن نے ہمارے ایک نہ سنی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کی پہلی شرط یہ ہے کہ انتخابات صاف شفاف اور منصفانہ کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جس کو الیکشن کمیشن نے پورا نہیں کیا تو آج کے ہونے والے انتخابات شفاف اور منصفانہ کیسے ممکن ہیں۔
انکا مزیدکہنا تھا کہ ہم نے وفاق اور صوبائی حکومت کو حلقہ بندیوں کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا جس پر آصف علی زرداری نے یقین دہانی بھی کروائی تھی آج 15جنوری ہے ہم انصاف کی امیدکا انتظار کرتے رہے لیکن ہمیں انصاف نہیں ملا ایسا لگتا ہے کے مہاجروں کو دیوار سے لگانے کیلئے کوئی قومی اتفاقی رائے طے پا گیا ہے اس لئے ہم آج کے کراچی، حیدرآباد سمیت ٹھٹہ،بدین،سجاول،جامشورو، مٹیاری،ٹندوالہ یاراور دادومیں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے احتجاجاََ دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں ہم مہاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور سازش کاشکار ہوکر اس گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے اورایم کیو ایم پاکستان پہلے سے دھاندلی زدہ انتخابات کوتسلیم نہیں کرتے ہوئے اس کیخلاف آواز بلند کرتے رہیں گے ہم اصولوں کو ہار کر جیتنے والوں میں سے نہیں ہیں ووٹوں سے لوگ ماضی میں بھی جیت کر اخلاقی طور پر ہار گئے تھے جماعت اسلامی یہ جانتے ہوئے بھی کے انتخابات میں جیری مینڈرنگ ہوگئی ہے محض اپنی سیاست کو چمکانے کیلئے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی و حیدرآباد، ٹھٹہ،بدین،سجاول،جامشورو، مٹیاری،ٹندوالہ یاراور دادوکے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کی خاطرآج کے بلدیاتی انتخابات کے عمل سے احتجاجاََ دستبردار ہوکر اپنے گھروں پر رہیں اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کیلئے تیار رہیں۔
اس موقع پرایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں ڈاکٹرفاروق ستار، وسیم اختر،انیس قائم خانی،مصطفی کمال،عبدالوسیم،اراکین رابطہ کمیٹی،سی او سی کے انچارج و اراکین،اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
