کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما سید مصطفی کمال نے نیب کورٹ کراچی کے باہر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے عوام سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم پاکستان کے لئے سیکیورٹی رسک ہیں؟ ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر ریاست حکومت سندھ کو روکنے کو تیار نہیں اور جو کچھ یہاں ہورہا پورے پاکستان میں کہیں نہیں ہورہا۔
مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں آبادی کو کم گنا جارہا ہے، 98 لاکھ کی آبادی میں کی گئی مردم شماری کے مطابق 209 بلدیاتی یوسیز کے حلقے تھے جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی پر دوگنے حلقے ہونے چاہیئے تھے تاہم آبادی سو فیصد بڑھنے پر صرف 38 نشستیں بڑھائی گئیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ہم بھارت یا اسرائیل سے آئے ہیں اور کیا شہر کو حقیقی نمائندگی ملنے سے ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول مل جانا تھا، آج ہم سوال کرتے ہیں ہم کس درجے کے پاکستانی ہیں، کیا آبادی کم گننا اور نمائندگی کم کرنے سے ملک کی خدمت ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سب کا بینر لگانے سے کچھ نہیں ہوتا، بینر لگانے سے لوگوں کے دل نہیں جیتے جاسکتے، کراچی میں صرف اردو بولنے والے نہیں تمام زبان بولنے والے اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، آصف زرداری زیرک سیاستدان ہیں وہ ان حالات کو کیوں نہیں دیکھ رہے، بلاول بھٹو اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو کیا وہ چاہیں گے کراچی حیدرآباد والے انکے خلاف ہوں۔
پیپلز پارٹی کے ساتھ گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مانا کہ کراچی میں آبادی کے تناسب سے یوسیز کی 53 سیٹیں کم ہیں اور اتنی نشستوں پر پورا شہر بن جاتا ہے نیز سندھ حکومت کیجانب سے حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے بعد ہونے والے بلدیاتی الیکشن جعلی ہیں۔
انہوں نے بلاول کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ چند لوگوں کی باتوں میں آکر آپ اپنے مستقبل کی وزارت عظمی خطرے میں ڈال رہے ہیں کیونکہ جس حلقے میں میرا ووٹر ہے وہاں کا حلقہ 90 ہزار ووٹوں پر ہے اور آپکا حلقہ انتخاب 15 ہزار ووٹوں پر ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے فروری کے پہلے ہفتے میں احتجاج کی تیاری شروع کردی ہے، ہم کراچی کے لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے، انکا مطالبہ تھا کہ سندھ حکومت کے جاری کردہ خط کے تحت نشستوں کی تعداد بڑھائی جائے، ہمارے الیکشن میں نا ہونے کے بعد کسی کا بھی میئر ہو فرق نہیں پڑھتا کیونکہ یہ اکیلے کھیل رہے ہیں پھر بھی گول نہیں کرپارہے، وفاقی حکومت سے کہتے ہیں سندھ حکومت کو سمجھانے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔
