کراچی: قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کیماڑی کے علاقے مواچھ گوٹھ،علی محمد گوٹھ کا دورہ کیا۔ علاقہ مکینوں نے حلیم عادل شیخ کو بتایا کہ یہاں لینڈ مافیا کے لوگ زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں،19 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں 30 سے 40 بچے گھروں میں بیمار پڑے ہیں، علی محمد گوٹھ 9ایکڑ زمین پر رہائشی علاقہ ہے جہاں گوٹھ آباد کے تحت علاقہ مکین آباد ہیں، پورے علاقے میں غیر قانونی فیکٹریاں قائم ہیں جن کی زہریلی گیس سے یہاں جینا محال ہوگیا ہے۔
حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ علی محمد گوٹھ میں 19بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، اگر زہریلی گیس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں تو ان علاقوں میں فیکٹریاں قائم کرنے کی اجازت کس نے دی؟ سندھ حکومت کے محکمے بھتہ خوری میں لگے ہوئے ہیں، جو بھی ذمہ داران ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور جن کے بچے ہلاک ہوئے ہیں فوری طور پر ان کے ورثا کو سندھ حکومت معاوضہ ادا کرے۔
حلیم عادل شیخ نے پی ٹی آئی رہنما امجد آفریدی کے گھر جاکرامجد آفریدی اور ان کے زخمی بھائیوں کی عیادت کی ۔درایں اثنا پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے کیماڑی مواچھ گوٹھ میں زہریلی گیس سے ہلاکتوں پر سندھ اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرادی ہے،تحریک التواء پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کی جانب سے جمع کرائی گئی۔
خرم شیرزمان نے اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے دور میں مواچھ گوٹھ میں 18 لوگوں کی اموات پر آج سب خاموش ہیں،یہ واقعہ عمران حکومت میں ہوا ہوتا تو واقعہ میڈیا کی زینت بنا ہوتا،ٹی وی چینلز پر قیامت کا منظر پیش کیا جاتا،،پی ڈی ایم کیلئے 18لوگوں کو مارنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا، قادر پٹیل اس حلقے قومی اسمبلی کے رکن ہیں،ہمیں یقین اس معاملے کو خاموشی سے دبا دیا جائے گا۔
