کراچی : وفاقی حکومت کی جانب سے منی بجٹ لانے اور نئے ٹیکسوں کی اطلاع پر تاجر وصنعتکار برادری اور کاروباری طبقے میں پریشانی لہر دوڑ گئی ہے اور قسم کے کسی بھی فیصلے کی شدید مزاحمت کا فیصلہ کیاگیاہے ۔
ایگزیکٹو ممبر اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن چوہدری مظہر نے کہا ہے کہ ٹیکسز مسائل کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر شدید گرداب میں پھنسا ہوا ہے ان حالات میں منی بجٹ کے فیصلے نے عوام اور کاروباری برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے،اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس ختم ہونے اور نئے ٹیکسز لگنے سے کاروباری لاگت اور مہنگائی مزید بڑھے گی ۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر پہلے ہی شدید گرداب میں پھنسا ہوا ہے ایسے میں کاروبار دوست اقدامات کرنے ضروری ہیں مگر حکومت درآمدات کو کنٹرول کرنے اور روپے کے زوال کو روکنے کے لئے نتیجہ خیز اقدامات نہیں کر سکی ہے اور اب دیگر ممالک سے قرضوں کے معاہدے بھی روپے کے زوال کو روکنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے جو معیشت کو مزید نقصان پہنچائیں ان سے بہتر ہے کہ ٹیکس قوانین میں سقم دورکرنے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت کی جائے کیونکہ جب تک ٹیکسیشن نظا م میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اصلاحات نہیں ہوں گی اسوقت تک ریونیوکا ہدف پورا نہیں ہوگا جس کے لئے حکومت سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اس سلسلہ میں قانون سازی کر ے اور اس پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ اداروں کارویہ بھی کا رو با ر دوست ہوناچاہیے ۔
