کراچی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35روپے اضافہ کے اچانک اعلان سے شہر میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ شہریوں نے بڑی تعداد میں پٹرول بھروانے کے لیے پٹرول پمپس کا رخ کرلیا۔
پیٹرول مہنگا کرکے ٹیکس خسارہ پورا کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط کی بازگشت گزشتہ ہفتہ سے ہی کراچی میں سنی جارہی تھی اسی لیے گزشتہ ہفتہ سے ہی پیٹرول پمپس مالکان نے پیٹرول ذخیرہ کرنا شروع کردیا تھا اور شہر کے تقریباً 50 فیصد پٹرول پمپس پر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پٹرول کی فروخت بند کردی گئی تھی۔
پٹرولیم ڈیلرز کو اطلاع تھی کہ پٹرول مہنگا ہونے والا ہے، اتوار کی صبح شہریوں کو اچانک پٹرول مہنگا ہونے کی اطلاع ملی تو بائیک، رکشہ اور کاروں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس سے پیٹرول پمپس پر افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
شہریوں نے وفاقی حکومت اور وزیر خزانہ کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کو مہنگائی کی نئی اور شدید لہر کا آغاز قرار دیاہے۔
