کراچی: سانحہ بلدیہ متاثرین نے آئی ایل او کے یکطرفہ غیر جمہوری رویے کے خلاف کراچی پریس کلب پر نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن،سانحہ بلدیہ متاثرین ایسویسی ایشن اور پائیلر کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت متاثرین ایسوسی کے رہنما محمد صدیق اورحسنہ خاتون نے کی۔
احتجاجی مظاہرے میں سانحہ بلدیہ میں شہید ہونے والے مزدوروں کے لواحقین،سانحہ میں زخمیوں ہونے والےمزدوروں کے علاوہ سماجی،سیاسی اورانسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ٹریڈ یونین فیدڈیشن کے ناصر منصور ، نیشنل لیبر کونسل کے کرامت علی ، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی زہرا خان،ورکرز رائٹس موومنٹ کے گل رحمان ، ایچ آر سی پی کے قاضی خضر ، سانحہ بلدیہ ایسوسی ایشن کے محمد صدیق ، حسنہ خاتون، محمد جمیل کا کہنا تھا کہ جرمن برانڈ اور مزدور تنظیموں کے مابین ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا کہ یہ رقم پاکستان میں انوسٹ کی جائے گی تاکہ متاثرین کو عمر بھررقم کی ادائیگی ممکن ہو سکے اور جب تک اس رقم کی باہمی رضامندی سے انوسٹ منٹ نہیں ہوتی اس رقم میں سے لواحقین کو ماہانہ بنیادوں پرطے شدہ رقم کی ادائیگی کی جائے گی لیکن آئی ایل او نے مزدور تنظیموں اور جرمن کمپنی کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متاثرین اور مزدور تنظیموں کی مشاورت کے بغیر ایک انشورنس کمپنی سے معاہدہ کرتے ہوئے تمام رقم اس انشورنس کمپنی کے حوالے کر دی ہے اورمتاثرین کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔
متاثرین اور مزدور تنظیموں کے مسلسل مطالبہ کے باوجود انشورنس کمپنی سے ہونے والے معاہدے کو خفیہ رکھا جا رہا ہے آئی ایل او کا طرز عمل شفافیت کی کھلی خلاف ورزی اور متاثرین کی تذلیل کے مترادف ہے آئی ایل او کے غیر جمہوری طرز عمل اور لیبر ڈپارٹمنٹ کے من مانے اور یک طرفہ فیصلہ نے سانحہ کے متاثرین کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔
مقررین نے کہاکہ اگلے ماہ قانونی کارروائی کے عدالت سے رجوع کیا جائے گا اور کراچی میں آئی ایل او کے آفس کے سامنے بھی مظاہروں کا اہتمام کیا جائے گا۔
