مارٹن کواٹر کے شہری کا چیف جسٹس کو جذباتی خط

تحریر : ابوبکر

  آج سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مجھ جیسے بہت سےلوگ یہ سوچنےپرمجبور ہوگئےکیاواقعی پارلیمنٹ یا پارلیمنٹیرینرز کی نظر میں عدالتوں یا اداروإ لہ کوئی اہمیت اور اوقات کیوں نہیں ہے؟

کسی بھی علاقے کا رکن قومی و صوبائی اسمبلی  یا پھر کوئی وزیر یہاں تک کےکوئی وزیراعظم بھی اگراپنی عوام سے کوئی وعدہ کرتا ہے تو اس کوپورا نہیں کیاجاسکتا اس پر بھی عدالتوں کو سوموٹو لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

جبکہ میرا سوچنا یہ ہے کہ عدالتوں کو یہ کرناچاہیے کہ جو گورنمنٹ عوام کے خلاف فیصلے کرے عدلیہ اس پر سوموٹو لے اور شہریوں کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے عوامی مفاد میں احکامات صادر فرمائے۔

کسی بھی جماعت کا منتخب ہونے والا ایم این اے ،ایم پی اے وزیر یا وزیر اعظم عوام کےحق میں یا مفاد میں کوئی فیصلہ دیتا ہے تو اس  کی پرپذیرائی کرے اور اس فیصلہ کو پورےکروائے۔

ایک ایم این اے، ایم پی اے یاوزیر اپنے ووٹرز کو جو اسرا دیتا  ہے اور جوامیددیتاہے،وہ بے فائدہ بے مقصد ہےتو پھر الیکشن کا ڈرامہ کیوں رچایاجاتا ہے؟ کیوں عوام کے اربوں روپے الیکشن میں خرچ کر دیےجاتےہیں؟  حکومت جب ان کے کسی بیان کی ان کے کسی سرٹیفکیٹ یا پھر  اُنکی کسی بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ان کے دیےہوئےسرٹیفکٹ کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے ریٹائر ملازمین کو قابضین کانام دےکر ان کی عزتوں کو سربازار اچھالتے ہوئے شریف لوگوں کی تذلیل کرکےجناب عزت ماب چیف جسٹس صاحب سمجھتے ہیں کہ ہم نےبہت اعلی فیصلہ کیا ہے۔۔۔

ان کو جگہ جگہ سڑکوں اور بازاروں میں ذلیل کروا کر سوچ رہے ہیں کہ ہم انصاف کا بول بالا کر رہے ہیں۔۔۔

کبھی کسی ایم این اےکے پاس کبھی کسی ایم پی اے کے پاس کبھی کسی ویلفیر اورکبھی کسی محلہ کمیٹی کے پاس کوئی سیاسی کمیٹی 15000ہزارکوئی ویلفیر  کمیٹی5000 ہزار اور کوئی محلہ کمیٹی 3000 ہزار میں ان مکینوں کے مکانوں کا سودا کرارہی ہیں ان کو ذلیل و رسوا کر رہی ہیں ان سے بلیک میلنگ کررہی ہیں ان افراد میں یتیم بچے ہیں مائیں بہنیں بیوہ عورتیں جو اپنےمکانوں میں سکون سے رہتے ہوئے جیسے تیسے اپنی زندگی کے دن بسرکرہےتھے۔

مگر جناب چیف جسٹس صاحب کو ان کی جگہوں سے بہت پیار ہے گورنمنٹ اصولوں پر چلنے کا بہت شوق ہے لوگوں کے ساتھ ہمدردی محبت خلوص جذبات کا رشتہ بہت زیادہ ہے جناب عدالتوں میں توغریب عوام کو انصاف مہیا کرنے پرباضدہیں۔۔۔

ہم جناب کی ذاتیات پر نہیں جاتے ہمیں اپنی عوام کے مسائل سے دلچسپی ہےمگر جناب نے اب اسٹیٹ آفسرز کےہاتھوں ان مکینوں کو ذلیل کرواناہے تو یہ شوق بھی پورا ہوجائے۔۔۔

آج لکھتے ہوئے کچھ زیادہ جذباتی ہو گیا اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت کے ساتھ مگر آج لکھتے لکھتے مجھے جناب راحت اندوری صاحب کے یہ اشعار بہت یاد آئے۔

براہ مہربانی ان کی تشریح غلط الفاظ میں نہ کرنا یہ میرے جذبات ہے۔

 خون آنکھوں کے چراغوں میں چھپا لوورنہ۔۔۔

تیرگی شہرسےرخصت نہیں ہونے والی۔۔۔

ساتھ چلناہےتوتلواراٹھامیری طرح۔۔۔

مجھ سےبزدل کی حمایت نہیں ہونے والی۔۔۔

اب کے جو فیصلہ ہوگا وہ یہیں پر ہوگا۔۔۔

ہم سےاب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی۔۔۔


نوٹ: قلم کار کے ذاتی خیالات اور صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: