ڈی ایچ اے اسکینڈل: وزارت داخلہ کی تحقیقات میں عدم دلچسپی

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست کے باوجود وزارت داخلہ 15 ارب روپے مالیت کے ڈی ایچ اے سٹی اسکینڈل میں سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کو بیرون ملک سے واپس وطن لانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

ڈان سے گفتگو میں نیب حکام کا کہنا تھا کہ ‘رواں سال کے آغاز میں وزارت داخلہ سے درخواست کی گئی تھی کہ کامران کیانی کے ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں اور لاہور کے ڈی ایچ اے سٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی تحقیقات کی غرض سے ان کی وطن واپسی کے لیے انٹرپول کی مدد لی جائے لیکن وزارت داخلہ کی جانب سے مشتبہ شخص کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا’۔

اس معاملے پر وزارت داخلہ کی ‘خاموشی’ نیب کے کئی عہدیداران کے لیے حیرانی کا باعث بنی، ڈان نے جب اس معاملے پر وزارت کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تو بھی کوئی واضح جواب حاصل نہ ہوسکا۔

ترجمان وزارت داخلہ سرفراز حسین نے ڈان کو بتایا کہ ‘کامران کیانی کے معاملے پر متعلقہ افسران سے بات کروں گا جس کے بعد وزارت کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا جائے گا’۔

تاہم ایک ہفتے کے دوران متعدد بار یاددہانی کے باوجود انہوں نے وزارت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا۔

نیب ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو خود کامران کیانی کے معاملے پر کام نہیں کرسکتا کیونکہ اس مقدمے کو وزارت داخلہ نے آگے بڑھانا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا ‘ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وزارت اس مقدمے میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہی’۔

خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے رشتے دار اور کیس کے مرکزی ملزم حماد ارشد، کامران کیانی اور دیگر ملزمان کے خلاف نیب پہلے ہی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرچکی ہے۔

احتساب عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیئے جانے کے بعد نیب کامران کیانی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کرچکی ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب نے ڈی ایچ اے سٹی اسکینڈل میں کامران کیانی کے خلاف 4 ارب روپے کے واجبات کا تعین کیا ہے۔

یاد رہے کہ جنوری 2016 میں نیب نے گلوباکو پرائیوٹ لمیٹڈ کے مالک ارشد کو حراست میں لیا تھا، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے کامران کیانی کی کمپنی الائسیئم ہولڈنگز پاکستان کو بھی اسکینڈل میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

نیب کے مطابق، گلوباکو نے ڈی ایچ اے کے ساتھ نومبر 2009 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ٹھوکر نیاز بیگ کے نزدیک 25 ہزار کنال کے ٹریک پر ڈی ایچ اے سٹی لاہور قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔

کمپنی نے اس منصوبے کے لیے 13 ہزار کنال سے زائد زمین خریدی جبکہ گلوباکو کمپنی کے مالک ارشد نے عوام کو الاٹمنٹ لیٹر جاری کرتے ہوئے 15 ارب روپے سے زائد جمع کیے جسے بعد ازاں انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کردیا۔

ملزم نے ان فنڈز کو ذاتی مفاد اور دیگر کاروباروں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا۔

نیب کا کہنا تھا کہ چونکہ ڈی ایچ اے سٹی کے تحت کوئی خاطرخواہ ترقیاتی کام نہیں کیا گیا تھا لہذا ملزمان نے عوام اور فوجیوں و شہداء کے خاندانوں سے اپنی محنت سے کمائی رقم جمع کرکے دھوکا دہی کی۔

مرکزی ملزم نے عوام سے وصول کی گئی رقم میں سے 13 کنال زمین خریدنے کے لیے صرف 1.80 ارب روپے خرچ کیے۔

اسکینڈل سے متاثر ہونے والے 11 ہزار 700 سے زائد افراد کا دعویٰ ہے کہ گلوباکو، جو اب اورنج ہولڈنگ پرائیوٹ کمپنی لمیٹڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، نے جان بوجھ کر منصوبے کو ملتوی کیا اور مالی فوائد کے لیے مختلف آپشنز فراہم کرتی رہی۔

خیال رہے کہ کمپنی کے مالک ارشد اور ڈی ایچ اے سٹی لاہور کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ بریگیڈیئر خالد نذیر بٹ اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔

گذشتہ ہفتے نیب نے گلوباکو کے ڈائریکٹر مراد ارشد کو گرفتار کیا تھا، جنہیں جسمانی ریمانڈ پر بھیجا جاچکا ہے۔

مراد ارشد ڈی ایچ اے انتظامیہ اور گلوباکو پرائیوٹ لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے متنازع معاہدے پر دستخط کرنے والے اہم افراد میں سے ایک تھے۔


یہ خبر 17 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: