کراچی:‌ رمضان سے قبل غذائی اجناس کی قلت کا خدشہ

کراچی گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث کراچی کی بندرگاہ پرضروری خوردنی اشیا کے ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے۔

اگر ہڑتال مزيد دو روز جاری رہی تو رمضان میں اجناس کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے اندرون ملک بھی اشیائے خورونوش کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

آئندہ 2 روز میں ہڑتال ختم نہ ہونے کی صورت میں رمضان المبارک کے دوران اجناس کا بحران پیدا ہوسکتا ہے جس سے قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔کراچی کی بندرگاہ پر صرف مسور، چنے کی دال، کابلی چنے کے 700 کے قریب کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں.

جن میں چائے کی پتی، خشک دودھ، مصالحوں کے کنٹینرز ملاکر 2500سے زائد کنٹینرز میں ضروری خوردنی اشیاءہیں۔ہڑتال ختم ہونے کے بعد بھی صورتحال معمول پر آنے میں 10سے 12دن لگ جائیں گے اس دوران رمضان شروع ہوجائیں گے اور اشیا کی سپلائی کم اور طلب زیادہ ہونے سے قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا۔مال بردار گاڑیوں کی ہڑتال سے رسد کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔

دالوں کے امپورٹرز ہوں یا سبزی فروٹس کے ایکسپورٹرز، لیدر مصنوعات بنانے والے ہوں یا کیمیکلز کے امپورٹرز گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال سے سب کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ہیوی گاڑیوں کے نہ چلنے سے تجارت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

ایکسپورٹرز کے تیار مال کو فیکٹریوں میں گھن کھا رہا ہے تو امپورٹرز کے کنٹینرز کا پورٹ پر ڈھیر لگ رہا ہے جس پر انہیں جرمانہ الگ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ رسد کا نظام بحال نہ ہونے سے درآمد ہونے والی کھانے پینے کی بیشتر اشیاء کے دام چڑھنا شروع ہو گئے ہیں اور سارا نزلہ عوام پر ہی گر رہا ہے۔

بعد ازاں ٹرانسپورٹرز نے مذاکرات میں کامیابی کے بعد اب سے کچھ دیر قبل ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: