کراچی میں بڑے پیمانے پرصنعتیں بند،تاجرپریشان،احتجاج پرمجبور

کراچی: حکومت کی معاشی پالیسیوں کیخلاف کراچی تاجراتحاد نے بولٹن مارکیٹ کے سامنے گزشتہ روز احتجاج کیا جو رات دیر گئے تک جاری رہا۔ اظہاریکجہتی کے طورپرقائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ،ماہرمعاشیات پی ٹی آئی رہنما مزمل اسلم،پی ٹی آئی رہنما امان اللہ شاہ و دیگرنے بھی احتجاج میں شرکت کی اورآل سٹی تاجرایسوسی ایشن چیئرمین شرجیل گوپلانی سمیت دیگر تاجررہنماؤں سے ملاقات کی۔

اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا امپورٹڈ حکومت نے ملکی معیشت کو برباد کردیا،اب تاجروں کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے،تاجروں نے معاشی حالت کے انتہائی سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے کراچی میں لوہے اوراسٹیل کی 95 فیصد صنعتیں بند ہوچکیں،جوتے کی صنعتیں 100 فیصد بند ہوچکی ہیں،پلاسٹک کی صنعتیں 85 فیصد بند ہوچکی ہیں،ادویات کی صنعتیں 20 فیصد بند ہوچکی ہیں،کنفیکشنری کی صنعتیں 70 فیصد بند ہوچکی ہیں،کھلونے کی مقامی صنعتیں 100 فیصد بند ہوچکی ہیں،فرنیچرکی برآمدات 80 فیصد کم ہوگئیں،حکومت نے تاجروں کو تباہ کردیا،حکومت کی ناقص پالیسیوں نے تاجروں کو سڑکوں پربٹھادیا اوربھیک مانگنے پرمجبورکردیا۔

حکومت آئی ایم ایف کے قدموں میں گرکر بھیک مانگ رہی ہے زرداری مافیا اورنامراد سندھ حکومت نے فیکٹریاں بند کروادیں یہ سیاہ رات جلد ڈھلنے والی ہے،عمران خان کا دورتاجروں کیلئے سنہرہ دورتھا،ماہرمعاشیات مزمل اسلم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں مہنگائی کی سب سے بڑی لہرآنیوالی ہے،پاکستان کی جی ڈی پی کا پچیس فیصد حصہ ہول سیلراورریٹیلرزہیں،آئی ایم ایف کے پروگرام کو نو مہینے تک زبردستی بڑھایا گیا،اسحاق ڈارکی آنکھیں ناکامی کے بعد پیچھے چلی گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ امپورٹ پرپابندی لگانے کے بعد ملک میں اسمگلنگ عام ہوگئی،سیلاب متاثرین کے نام پربجلی کے بل معاف کردیئے گئے،جس نے گردشی قرضے کو بڑھا دیا،پاکستان کی تاریخ میں زرمبادلہ کی شرح انتہائی کم ہوگئی ہے سیلاب ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری ہوگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: