حقوق ریلی: فاروق ستار اور قیادت سانحہ حیدرآباد بھول گئی

حیدرآباد: ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے حیدرآباد حقوق ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں مرکزی قیادت، ایم پی اے، ایم این اے اور سرکاری افسران سمیت عہدیداران نے شرکت کی۔

ریلی کا آغاز سٹی گیٹ سے ہوا اور وہ مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی کوہ نور چوک پر اختتام پذیر ہوئی جہاں ایک مرکزی قائدین کی جانب سے خطاب بھی کیا گیا۔

ریلی جب جیل روڈ پہنچی تو وہاں موجود کارکنان نے الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی شرع کردی، فاروق ستار اور وسیم اختر کو اس دوران شدید مزاحمت کا سامنا رہا کیونکہ اُن کی گاڑیاں جہاں سے بھی گزرتیں وہاں بانی متحدہ کے حق میں نعرے بازی شروع کردی جاتی۔

نور چوک پہنچ کر قائدین کی جانب سے دھواں دھار خطاب کیا گیا، فاروق ستار نے جیسکو پر حملہ کرنے کی دھمکی کے ساتھ سندھ حکومت کو منتبہ کیا کہ اگر وسیم اختر کو اختیارات نہ دیے گئے تو حکومت چلانا مشکل کردیں گے۔خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔

اس دوران کسی بھی مرکزی رہنما کے منہ سے سانحہ حیدرآباد کیس بند ہونے یا اُس میں نامزد ملزمان کے باعزت بری ہونے کی کوئی مذمت نہیں کی گئی جو حیران کُن بات ہے کیونکہ گزشتہ سال تک انہی رہنماؤں کی جانب سے نامزد ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے اورسزا دینے کا مطالبہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: