عباسی اسپتال میدان جنگ بن گیا،سابق سینیٹرپرتشدد کی کوشش

کراچی: عباسی شہید اسپتال میدان جنگ بن گیا،پیرامیڈیکل اسٹاف نے اسپتال انتظامیہ اورسابق سینیٹرعبدالحسیب پر تشددکی کوشش کی،ایک سیاسی تنظیم سےتعلق رکھنےوالےمشتعل ملازمین نے ڈی ایم ایس ڈاکٹرطارق پر لاتوں اورگھونسوں کی بوچھاڑ کردی،ملازمین کے جارحانہ رویئے گالم گلوچ کرنے پرسابق سینیٹر عبدالحسیب انتطامیہ سمیت اجلاس چھوڑکراسپتال سے چلےگئے، ملازمین کی بدسلوکی غنڈاگردی پرانتظامیہ نےمزیدکام کرنےسےانکارکردیا۔

انتظامیہ نے ملوث ملازمین کےخلاف سخت قانونی کارروئی کامطالبہ کردیا،تفصیلات کےمطابق گزشتہ روز کےایم سی کا سب سے بڑااسپتال اس وقت میدان جنگ بن گیا جب سابق سینیٹر اورچیئرمین ہیلتھ کمیٹی عبدالحسیب اسپتال انتظامیہ کے ساتھ اسپتال کی بہتری کےحوالے سےڈائریکٹر آفس میں اجلاس میں مصروف تھے اس دوران اسپتال ملازمین کاایک گروپ جس کاتعلق ایک سیاسی تنظیم سے بتایاجاتا ہے ڈائریکٹر آفس میں گھس گیااوروہاں موجودسابق سینیٹر سمیت دیگرافسران سے بدتمیزی کی،اسی دوران مشتعل ملازمین میں شامل امتیاز،اسد،فراز،کاشف مجیداور ڈاکٹرمبشر سمیت غیرمتعلقہ افرادنےڈاکٹرطارق کو شدیدتشددکانشانہ بناتے ہوئے سابق سینیٹر عبدالحسیب پر بھی تشددکی کوشش کی ملازمین کےجارحانہ رویئے پر چیئرمین ہیلتھ کمیٹی عبدالحسیب افسران سمیت اجلاس چھوڑکراسپتال سے چلےگئے ۔

سیاسی تنظیم سےتعلق رکھنےوالےملازمین کےخطرناک عزائم پر ایم ایس عباسی اسپتال سمیت دیگر افسران نےایڈمنسٹریٹرکراچی کو تمام صورتحال سے تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیدیاہے اس ضمن میں انتظامیہ کاکہنا ہے کہ بعض شرپسند ملازمین اسپتال کاماحول خراب کرنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے جب بھی اسپتال کی بہتری کے لئے اقدامات کیے جاتے ہیں یہ لوگ ماحول خراب کردیتے ہیں ،مشتعل اور بدعنوان ملازمین سے ان کی جانوں کو شدیدخدشات لاحق ہیں،عباسی شہید اسپتال کی تباہی کے ذمہ دار یہ شرپسند ملازمین ہیں انتظامیہ نےایڈمنسٹریٹر سے شرپسند کارکنان کی غنڈہ گردی کانوٹس لے کر سخت قانونی کارروائی کامطالبہ کیاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: