Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی حملہ : تحقیقات کادائرہ وسیع ،100 سے زائد موبائل فون نمبرز مشکوک قرار | زرائع نیوز

کراچی حملہ : تحقیقات کادائرہ وسیع ،100 سے زائد موبائل فون نمبرز مشکوک قرار

کراچی : پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔

حملہ آوور کی زیر استعمال گاڑی کی بھی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

تفتیشی حکام کو دہشت گردوں کی لاشوں کے قریب سے موبائل فون بھی ملے ہیں تاہم فوری طور پر اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ موبائل فون دشتہ گردوں کے ہیں یا کے پی او میں حملے کے دوران کسی کے گر گئے ہیں تاہم ان کا فارنزک کرایا جا رہا ہے جس کے بعد ہی حتمی طور کچھ کہا جا سکتا ہے ۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کے پی او کے اطراف کی جیو فینسنگ کا عمل جاری ہے اور اس دوران حملے کے وقت تقریباً 100 کے قریب سے موبائل فون نمبرز کو مشکوک قرار دیا گیا ہے ، تفتیشی حکام تمام نمبروں کے کوائف اور دیگر ضروری معلومات جمع کر رہے ہیں جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ موبائل فون نمبرز جن کی تعداد 8 سے 10 ہے جو کے پی او حملے کے بعد سے بند ہیں اور ان نمبروں سے بیرون شہر کا بھی کال ڈیٹا ملا ہے ۔

اس حوالے سے مزید تحقیقات کر آگے بڑھایا جا رہا ہے ، تفتیشی حکام نے کار میں سوار ہو کر کے پی آنے والے حملہ آوروں کے روٹ کا سراغ لگانے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں ، ذرئع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کس مقام سے حملہ کرنے نکلے اور وہ کون کونسا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے ہدف پر پہنچے ان تمام روٹس کے حوالے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں اور کچھ حاصل بھی کرلی گئیں ۔

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس آفس پر دہشت گردی میں استعمال کی جانے والی کار 8 افراد کو فروخت کی گئی جبکہ کار جس شوروم سے فروخت کی گئی تھی اس کے مالک کو تفتیشی حکام نے طلب کرلیا ہے جو کہ ابھی پنجاب گیا ہوا ہے۔

گاڑی جس کامران نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے پولیس نے اسے تفیتش کے بعد شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا ہے ۔