پاکستان تمام کاروباری سے منسلک حضرات کے مثائل کو حل کر کے عوام کو بنیادی ضروریات یا ضروریات زندگی کی اشیاء ان تک با آسانی خریدنے کے لیے کمشنری نظام پاکستان کو ورثہ میں ملا ہے جو آج تک چلا آ رہا ہے جس کا مقصد عوام کو چاہے وہ کاروباری طبقہ ہو یا عام عوام انکے مسائل کو حل کرنا ہے۔
کمشنری نظام میں جتنے افسران یا اہلکار ہیں وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عوام کے ٹیکس سے بھاری تنخواہیں اور مرعات صوبائی حکومت سے وصول کرتے ہیں کمشنری نظام میں افسران بیوروکریٹس کہلاتے ہیں انکا کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے کوئ تعلق نہیں ہوتا وہ اپنی تعلیم قابلیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شہر اور شہریوں کی بہتری کے لیے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جس سیاسی یا مذہبی پارٹی کی حکومت ہوتی ہے کمشنری نظام میں بیوروکریٹ افسران ان ہی کی پسند کے ہوتے ہیں۔
مطلب لاڈلے افسران کمشنر ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر لگائے جاتے ہیں اور انکے ماتحت کام کرنے والے ذیلی ادارے جیسے کراچی میں کے ایم سی ڈی ایم سی ریونیو ڈیپارٹمنٹ، پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کیلیے ایڈمنسٹریٹر کام کر رہے ہیں مگر شہر کا مالک کمشنر اور ضلع کا مالک ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے۔
اس لیے ضلع کی بہتری کے لیے اسکی صاف ستھرائی تزئین و آرائش ضلع میں رہنے والی عوام ہو یا کارباری شخصیات انکی حفاظت سے لے کر ضروریات زندگی کے تمام مسائل حل کرنا ڈپٹی کمشنر کی ذمہ داری میں شمار ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے نا ہی عوام کو معلوم ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی کیا ذمہ داری ہے نا ڈپٹی کمشنر کو معلوم ہوتا عوام کس کرب سے گزر رہے ہیں۔
ہر شخص من مانی زندگی گزار رہا ہے جس کا جہاں دل کرتا ہے ناجائز تعمیرات کر رہا ہے جس جہاں دل کر رہا نالے کی چھت ہو یا فٹ پاتھ ! قبضہ کر کے دکان یا ٹھیہ ڈال کر بیٹھ جاتا تو کوئی آدھی مین روڈ گلیاں چوک چوراہوں پر قبضہ کر کے مارکیٹیں بنا کر کما رہا ہوتا ہے، جس دکان دار چاہے وہ دودھ فروش ہو گوشت فروش ہو اشیائے خوردونوش مطلب تمام ضروریاتی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء ہو اپنی من مانی داموں پر فروخت کر رہے ہیں مگر ڈپٹی کمشنر ہو اسسٹنٹ کمشنر ہوں ڈی ایم سی کے ایم سی ایڈمنسٹریٹر ہوں کسی کی کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے کہ ضلع میں کیا ہو رہا ہے۔
بس سال میں ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر اسسٹنٹ کمشنر اپنے محافظوں پولیس کی موبائل اور چند اپنے پسند یدہ صحافیوں کے ساتھ مارکیٹوں کا دورہ کرتے ہیں، چند ناجائز قبضے ہٹواتے اور دو چار دوکان داروں پر زائد قیمتوں پر جرمانے لگا کر گھنٹے یا دوگھنٹے میں واپس اپنے آفس چلے جاتے ہیں، اب باقی کام ساتھ آنے والے مند پسند صحافیوں اور سرکاری افسران کے ساتھ پرائیوٹ افراد کا ہوتا وہ کس طرح دکان داروں پتھارا مافیہ کو ڈرا کر کہ ’صاحب بہت کڑک ہے ایسے نہیں مانے گا ہم بات کرتے ہیں کہ صاحب غریب لوگ ہے مت چھیڑیں بس تم ہمارا خیال کر لینا‘ مطلب کچھ نوٹ جیب میں ڈالو اس طرح خرچہ پانی جیب میں ڈال کر چلے جاتے ہیں کچھ دن بعد واپس آ کر کہتے ہیں یار سسٹم میں آنا پڑے گا مطلب اب مدعے کی بات شروع ہفتہ یا ماہانہ باندھ لو جو نیچے افسران سے لیے کر اوپر صاحب تک جائے گا۔
پھر تمھیں کوئی کچھ نہیں کہ گا جہاں چاہے ٹھیہ لگاؤ، فٹ پاتھ ہو یا روڈ وہ تمھاری مرضی جس قیمت پر سامان فروخت کرو مطلب ہر طرح سے من مانی کرو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا، اسطرح دکان دار ہو یا قبضہ معافیہ سسٹم میں آجاتا ہے اب چاہے کمشنر آفس سے کوئی نوٹیفکیشن نکلے کہ دودھ گوشت گروسری سرکاری نرخ پر بیچنے والوں کے خلاف کاروائی ہو یا ناجائز تعمیرات کے خلاف یا ناجائز پتھارے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے سب نوٹیفکیشن ہوا میں اڑا دیے جاتے ہیں کیونکہ سسٹم بہت مظبوط ہو چکا ہے۔
اب مافیہ سسٹم کے زریعے ہفتہ یا منتھلی ٹائم پر ادا کر رہا ہے اس لیے نوٹیفیکشن ایک ردی کے ٹکڑے کی مانند کہلاتا، ہاں جس دن سسٹم سے کوئی بغاوت کرے گا اور منتھلی یا ہفتہ مقررہ وقت پر ادا نہیں کرے گا یا پھر ہفتہ یا منتھلی بڑھانی ہوگی اسی دن وہی ردی کا ٹکڑا بننے والا نوٹیفکیشن لیے پھر مارکیٹ میں ہل چل مچا دیں گے پھر سال چھ مہینے کے لیے سکون سے سسٹم چلتا رہے گا اور اب یہ سسٹم اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اسے ختم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ اس سسٹم کو چلانے والے اتنے مظبوط ہیں جو ان سے ٹکراتا ہے اس کے خلاف جھوٹی ایف آئی آریں کاٹ کر انکی زندگی اذیت ناک بنا دی جاتی ہے۔
یا پھر زندگی کا کام تمام کر دیا جاتا ہے ماضی میں بہت سے صحافیوں کی ایسی مثالیں موجود ہیں جو اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے یا جھوٹے مقدمات میں جیل میں پڑے ہیں، میرا سلام ہے ایسے صحافیوں پر جنہوں نے اپنی جان تو جوکھوں میں ڈال دی مگر قلم کا سودا نہیں کیا، صحافت کو واہ واہ واہ کر کے بیچا نہیں اللہ میرا اور آپ کا حامی و ناصر رہے۔
