کراچی: توانائی بحران کے پیش نظرکراچی سمیت سندھ بھرمیں مارکیٹیں جلدی بند کرنے کا معاملہ،حکومت سندھ نے تاجروں کی تجاویزکو فیصلے میں شامل کرنیکی یقین دہانی کرادی۔
کمشنرکراچی نے وفاقی حکومت کی ہدایت پرڈپٹی کمشنروں کو تیاررہنے کی ہدایت کردی،توانائی بحران پرقابو پانے کیلئے وفاقی حکومت کی ہدایت پرکمشنرکراچی نے تجارتی مراکزاورشاپنگ مالزرات ساڑھے 8 بجے بند کرانے کیلئے تمام ڈپٹی کمشنروں کو خط لکھ دیا تاہم حکومت اورتاجروں کے ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا سعید غنی،مرتضیٰ وہاب،مکیش کمارچاؤلہ،کمشنرکراچی،زونل ڈی آئی جیز اوردیگر سرکاری افسران کیساتھ کراچی کے تاجررہنماوں نے شرکت کی،اجلاس میں مشاورت کسی نتیجہ پرپہنچنے تک فیصلے پرعملدرآمد روک دیا گیا۔
مشترکہ اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے مارکیٹیں ساڑھے أٹھ بجے اور شادی ہال و ریسٹورنٹ رات دس بجے تک بند کرنے کے حکومتی فیصلے پرمشاورت کے دوران کراچی کی تاجربرادری نے وفاقی حکومت کا فیصلہ یکسرمسترد کردیا اورماہ رمضان تک مارکیٹیں نو بجے اور شادی ہال ریسٹورنٹ گیارہ بجے بند کرنے کی تجویزپیش کی جبکہ ماہ رمضان میں مارکیٹیں رات گیارہ بجے اور أخرہ عشرہ میں پوری رات بازار کھولنے کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح ہوٹل ریسٹورنٹ افطارسے سحری تک کھولنے کی تجویزپیش کی گئی،صوبائی وزراء نے تاجروں کی تجاویزکی تاٸید کی اوریقین دہانی کرائی کہ فیصلہ تاجروں کی رائے اوربہتری کو مدنظررکھ کرکیا جائیگا،کراچی تاجرایسوسی ایشن کے صدر عتیق میر نے حکومت کی جانب سے ملک بھرکی مارکیٹوں اور دُکانوں کو ساڑھے آٹھ بجے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔
تاجررہنما جمیل پراچہ کا کہنا ہے کہ رمضان کی آمد ہے اورحکومت کاروبار بند کرنیکی کوششیں کررہی ہے،معیشت پہلے ہی وینٹی لیٹر پرہے اب یہ سانسیں بند کرنا چاہتے ہیں علاوہ ازیں سیکریٹری آل کراچی ریسٹورنٹ ایسوی ایشن نے ریسٹورنٹ رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا اورکہا حکومت فیصلے پرنظر ثانی کرے،سیکریٹری آل کراچی ریسٹورنٹ فیضان راوت نے کہا کہ ہم ریسٹورنٹ 12 بجے تک کھولنے کی اجازت مانگ رہے ہیں،حکومت نے نظرثانی نہیں کی تو احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔
