Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
پاکستان کو معاشی بحران سے آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک نہیں کراچی نکال سکتا ہے, مصطفیٰ کمال | زرائع نیوز

پاکستان کو معاشی بحران سے آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک نہیں کراچی نکال سکتا ہے, مصطفیٰ کمال

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو معاشی بحران سے آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک نہیں بلکہ کراچی نکال سکتا ہے پاکستان کا معاشی حشر بتا رہا ہے کہ تمام شرارتوں کا منفی نتیجہ نکلا ہے، 75 سال کے تجربات کے بعد پاکستان اب اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسکے ساتھ مزید کوئی شرارت کی جائے اگر مردم شماری میں کراچی حیدرآباد کیساتھ پھر زیادتی ہوئی تو اس شہر کے لوگوں میں بددلی پیدا ہوگی جس کا نقصان پورے پاکستان کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نادرا کراچی سے جاری شناختی کارڈز اور بے فارم کا ڈیٹا جاری کرنے کے لیے آج سینٹ میں تحریک پیش کررہی ہے ایم کیو ایم آج سے گھر گھر پہنچ کر مردم شماری اور خانہ شماری کا ڈیٹا اکھٹا کرئے گی ایم کیو ایم نے خود شماری، خانہ شماری اور مردم شماری کے لیے مختص ایام میں اضافے کا مطالبہ کردیا ۔

ان خیالات کا اظہار سید مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے پر پہلی بار 5 سال بعد مردم شماری کا عمل شروع ہوا ہے، ہم نیک نیتی کے ساتھ امید کرتے ہیں کہ یہ سارہ معاملہ شفاف اور غیر جانبدار رہے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہوا جس سے اس شہر کے لوگوں میں بددلی پیدا ہوئی تو اس کا نقصان پورے پاکستان کو ہوگا، افسوس ہوتا ہے کہ 70 سال بعد بھی یہ ڈر ہے کہ ہمیں پورا نہیں گنا جائے گا، ایم کیو ایم آج سینیٹ میں تحریک پیش کرنے جا رہی ہیں کہ نادرا کراچی میں بننے والے شناختی کارڈز اور بے فارم کا ڈیٹا فراہم کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اگر کوئی پاکستان کو مسائل کے انبار سے نکال سکتا ہے تو وہ ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی، ہیومن اور انڈسٹریل پوٹینشیئل کراچی نکال سکتا ہے۔ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ خود شماری، خانہ شماری اور مردم شماری کے لیے مختص ایام کو مزید بڑھایا جائے علاؤہ ازیں 1 بلاک میں زیادہ سے زیادہ 250 گھر ہونے چاہئیں، اگر 250 سے زائد ہوں تو بھی عملے کو پابند کیا جائے کہ وہ مردم شماری کا عمل مکمل کریں۔

مصطفی کمال نے مزید کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں غلط مردم شماری کی وجہ سے بے تحاشا مسائل رہے ہیں شہری اور دیہی کوٹہ سسٹم کے تحت شہری سندھ کے حقوق سلب کئے گئے اور گزشتہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو آدھا دکھایا گیا دنیا بھر میں لوگ شہروں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان میں دیہی علاقوں کے مقابلے کراچی میں بے تحاشہ مواقع ہیں جس کی وجہ سے نقل مکانی کی یہ تعداد بہت زیادہ ہے ہمیں غلط مردم شماری کی وجہ سے پانی، بجلی، گیس، علاج، روزگار، سڑکوں، سیورج سمیت ٹرانسپورٹ کے لیے فنڈز نہیں ملتے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود زمہ داری لیں، ایم کیو ایم نے کراچی بھر میں کیمپس قائم کر دیئے ہیں اور عوام کو خود شماری کے حوالے سے آگاہی دی جا رہی ہے ہمارے کارکنان آج سے گھر گھر پہنچ کر شہریوں کا ڈیٹا حاصل کریں گے اور عوام کو مردم شماری کے عمل کے بارے میں آگاہ کریں گے۔